وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پولینڈ کے سفیر کی ملاقات،  وونو ںممالک کا تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں  نئے تعاون کا عزم

11

اسلام آباد۔24ستمبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے بدھ  کو پولینڈ کے سفیر ماسیج پسارسکی  نے وزارت تجارت میں ملاقات کی۔ ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، معدنیات اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر بات چیت کی گئی۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے جن میں آسیان ممالک کے سفیروں سے حالیہ ملاقاتیں اور سعودی عرب کے ساتھ تجارتی روڈ میپ پر جاری کام شامل ہے۔وفاقی وزیر نے پولینڈ کی معروف انرجی کمپنی اورلین (ORLEN) (سابقہ پولش آئل اینڈ گیس کمپنی) کی پاکستان میں موجودگی کو ایک کامیابی  قرار دیا۔ یہ کمپنی پچھلے 26 برسوں سے پاکستان کے سندھ،بلوچستان بیلٹ میں تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار میں تقریباً 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکی ہے اور آئندہ دس برسوں میں اس سرمایہ کاری کو دوگنا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پولینڈ کے سفیر نے بتایا کہ اورلین کی نئی دریافتوں بشمول بران اور سرمزارانی ویسٹ کے بلاکس موجودہ کرتان پہاڑوں کی سرگرمیوں سے متصل ہیں اور انتہائی حوصلہ افزاء ہیں۔ انہوں نے بعض زیر التواء مسائل کو بھی اجاگر کیا جنہیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر تجارت نے یقین دلایا کہ سرمایہ کاروں کے اعتماد اور بلا تعطل کام کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ ان امور کو حل کیا جائے گا۔وزیر تجارت نے پولینڈ کی کمپنیوں کو گلگت بلتستان اور بلوچستان میں کولڈ سٹوریج، پھلوں کی حفاظت، ویکسنگ، گریڈنگ اور گوداموں کی سہولیات قائم کرنے کے لیے پبلک و پرائیویٹ شعبے کے ساتھ شراکت داری کی دعوت دی۔ انہوں نے ای ڈی ایف کے سولر پاورڈ مرچ خشک کرنے کے منصوبے کو ایسی کامیاب مثال کے طور پر پیش کیا جسے تیزی سے مکمل کیا گیا۔پولینڈ کے سفیر نے اس تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پولینڈ کی گودام سازی اور لاجسٹکس میں مہارت پاکستان کو ٹرانسپورٹیشن لاگت کم کرنے اور برآمدات کا معیار بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ وزیر تجارت نے کہا کہ پولینڈ کی مہارت اور پاکستان کے کم لاگت خام مال اور افرادی قوت کے امتزاج سے دونوں ملکوں کے لیے بڑی قدر پیدا ہو سکتی ہے۔جام کمال خان نے کہا کہ آئندہ پانچ برسوں میں پاکستان تیل و گیس کے ساتھ ساتھ معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں بھی پیش رفت کرے گا کیونکہ بلوچستان میں کاپر، لیگنائیٹ اور دیگر معدنیات کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ پولینڈ کے سفیر نے بتایا کہ پولینڈ دنیا میں لیگنائیٹ کا چوتھا اور کاپر کا آٹھواں بڑا پروڈیوسر ہے اور مشترکہ منصوبوں پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔ملاقات میں ثقافتی تعاون پر بھی بات ہوئی جس میں اسلام آباد کی ایک سڑک کا نام پولش ایئر کموڈور ولادیسلاو تروفچ (Wadysaw Turovich) کے نام پر رکھنے کی تجویز پیش کی گئی جو 1948ء میں پاکستان ایئرفورس کے قیام میں مددگار رہے اور بعد ازاں کراچی میں مقیم ہوئے۔ دونوں فریقین نے اس مشترکہ ورثے کو اجاگر کرنے سے عوامی روابط مضبوط ہونے پر اتفاق کیا۔دونوں ممالک نے اعلی سطحی ملاقاتوں اور منصوبوں کے ذریعے ٹھوس اقدامات، معاہدے اور پراجیکٹس کو حتمی شکل دینے کا عزم کیا۔ وزیرِ تجارت نے زور دیا کہ نظریات کو عملی جامہ پہنانا ضروری ہے تاکہ پاکستان کا ریگولیٹری اور ادارہ جاتی تعاون سرمایہ کاروں کی توقعات کے مطابق ہو۔ملاقات کے اختتام پر وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے پولینڈ کے ساتھ طویل المدتی اور باہمی فائدے پر مبنی شراکت داری کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کو دہرایا۔ پولینڈ کے سفیر نے پاکستانی حکومت کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں کی تعریف کی اور کہا کہ وارسا اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا خواہاں ہے۔جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان میں اورلین کے دو عشروں پر مشتمل سفر نے یہ ثابت کیا کہ استقامت اور شراکت داری کا پھل ملتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ مزید پولش کمپنیاں بھی اسی راستے پر آئیں۔