لاہور، 26 ستمبر (اے پی پی): پرتگالی سفیر مانویل فریڈ ریکو پنیہیرو ڈا سلوا کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے محکمہ اقلیتی امور کا دورہ کیا اور صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق، سیاحت کے فروغ، تعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صوبائی وزیر سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے فلیگ شپ پروگرام ’مینارٹی کارڈز‘ سے 75 ہزار شہری براہِ راست مستفید ہو رہے ہیں۔ پنجاب حکومت اقلیتی کمیونٹیز کی صلاحیت سازی، چھوٹے کاروبار، ای لرننگ پروگرامز اور مختصر کورسز کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ننکانہ صاحب اور کرتارپور دنیا بھر کے سکھوں کے لیے روحانی مراکز ہیں، جبکہ پنجاب میں پہلی مرتبہ ’ہفتہ برائے اقلیتیں‘ منایا گیا جس میں تمام مذاہب کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ حکومت ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور ای گورننس کے ذریعے مصنوعی ذہانت اور ای کامرس کو فروغ دے کر معاشی مواقع پیدا کر رہی ہے۔ سیکرٹری انسانی حقوق و اقلیتی امور فرید احمد تارڑ نے وفد کو بریفنگ دی، جبکہ پرتگالی سفیر نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اقدامات کو سراہا۔ پرتگالی سفیر نے کہا کہ پنجاب حکومت اقلیتوں کے تحفظ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ پرتگال میں بھی سکھ مندر قائم ہیں جو بھائی چارے کی روشن مثال ہیں۔ ہزاروں پاکستانی پرتگال میں مقیم ہیں اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پرتگال سیاحت، ورثے کے تحفظ، تعلیم، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سماجی ترقی کے شعبوں میں پنجاب کے ساتھ تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔ ملاقات کے اختتام پر صوبائی وزیر رمیش سنگھ اروڑہ نے پرتگالی سفیر کو یادگاری شیلڈ پیش کی۔











