‎پاکستان مشن میں تعینات کونسلر صائمہ سلیم کا جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بیان

30

‎اقوام متحدہ،  26 ستمبر ( اے پی پی): پاکستان مشن میں تعینات کونسلر صائمہ سلیم نے بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں جنرل اسمبلی کے  80ویں اجلاس کے دوران جوابی بیان میں کہا ہے کہ  پاکستان کی قربانیاں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں طویل عرصے سے عالمی برادری تسلیم کرتی آئی ہے۔ پاکستان نے نہ صرف پاہلگام واقعہ کی مذمت کی بلکہ آزاد، غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔ اس واقعے کے بعد عالمی برادری کی جانب سے صبر، بات چیت اور سفارتکاری کی اپیل کے باوجود بھارت نے صورتحال کو بگاڑا اور 7 سے 10 مئی 2025 کے دوران پاکستان پر بلاجواز جارحیت کی، جس کے نتیجے میں بے گناہ مرد، عورتیں اور بچے شہید ہوئے۔ پاکستان نے جنگ سے پہلے، دورانِ جنگ اور بعد میں ہمیشہ ایک اصولی اور ذمہ دارانہ مؤقف اپنایا  تاکہ شہریوں اور شہری ڈھانچوں کو نقصان نہ پہنچے۔

‎ انکا کہنا تھا کہ طاس معاہدے کو معطل رکھنا بھارت کے مکروہ کردار کو آشکار کرتا ہے۔ پانی کو ہتھیار بنا کر ، جو پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا سہارا ہے ، بھارت نے واضح کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کا کھلم کھلا خلاف ورزی کرنے والا ملک ہے، جو خطے کے امن کو خطرے میں ڈالتا ہے، کروڑوں افراد کو پانی کے بنیادی حق سے محروم کرتا ہے اور ایک انسانیت دوست معاہدے کی حرمت پامال کرتا ہے۔

‎  سلامتی کونسل کی قراردادیں جموں و کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دیتی ہیں، جس کا حتمی فیصلہ ایک آزاد اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے ہونا ہے، جو اقوام متحدہ کی نگرانی میں کرائی جائے۔

‎ اپنے قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے بھارت نے 9 لاکھ فوجی تعینات کر رکھے ہیں، جس سے جموں و کشمیر دنیا کے سب سے زیادہ عسکری زونز میں سے ایک بن گیا ہے۔   اگر ہم پر جارحیت مسلط کی گئی تو ہم اس کا جواب دیں گے ، اور ہم وہ جواب حوصلے، عزم اور قوت کے ساتھ دیں گے، جیسا کہ آپریشن “بنیان المرصوص” میں دیا۔ پاکستان بھارت کی منافقت کو بے نقاب کرتا رہے گا جبکہ  جموں و کشمیر کی عوام انصاف، وقار اور آزادی کے حقدار ہیں۔ وہ اپنے حقِ خودارادیت کو استعمال کریں گے اور ایک دن ضرور آزاد ہوں گے۔