اسلام آباد ، 29 ستمبر ( اے پی پی): قائمقام صدر مملکت سید یوسف رضا گیلانی سے ایوان صدر اسلام آباد میں ازبک اسپیکر نورالدین مویدن خانویخ اسماعیلوف نے اہم ملاقات کی، ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی روابط، اقتصادی تعاون اور پارلیمانی روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ تاشقند کے کامیاب دورے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں نئے دور کا آغاز قرار دیا گیا۔ دورہ تاشقند میں 10 مفاہمت کی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط اور اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک تعاون کونسل کے قیام پر اتفاق کیا گیا ۔اس موقع پر سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات تاریخی، ثقافتی اور مذہبی بنیادوں پر قائم ہیں۔او آئی سی وزرائے خارجہ کے 51ویں اجلاس کے موقع پر جون 2025ء میں دونوں ممالک کے درمیان روڈ میپ پر دستخط کیے گئے۔
سید یوسف رضا گیلانی کا ازبک صدر شوکت مرزیایوف کو جلد اسلام آباد کے دورے کی دعوت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ملاقات میں دوطرفہ سیاسی مشاورت اور مشترکہ وزارتی کمیشن جیسے مکینزم کے اجلاسوں کو خوش آئند قرار دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمانی تعاون دوطرفہ تعلقات کا اہم ستون ہے۔پاکستان اور ازبکستان میں پارلیمانی فرینڈشپ گروپس پہلے سے قائم ہیں جو تعاون کو بڑھانے کا مؤثر پلیٹ فارم ہیں۔ اپریل 2025ء کے ازبکستان کے دورے میں میری اعلیٰ قیادت سے مفید ملاقاتیں ہوئیں۔ پارلیمانی وفود کے تبادلے اور مشترکہ اجلاس دونوں پارلیمانوں میں بہتر فہم و تعلقات کو فروغ دیں گے۔ پاکستان اور ازبکستان کی دوطرفہ تجارت 27 ملین ڈالر سے بڑھ کر 111 ملین ڈالر تک جا پہنچی۔ دونوں ممالک کا ہدف آئندہ چار سال میں دوطرفہ تجارت کو 2 ارب ڈالر تک پہنچانا ہے۔
قائمقام صدر نے لاہور-تاشقند براہ راست پروازوں کی بحالی اور اسلام آباد-تاشقند ہفتہ وار پروازوں کا آغاز خوش آئند قرار دیا۔سید یوسف رضا گیلانی نے مزید کہا کہ ٹرانس افغان ریلوے منصوبہ پاکستان و ازبکستان کو افغانستان کے راستے جوڑنے کا اہم ذریعہ ہوگا۔ ریلوے منصوبے کی کامیاب تکمیل سے علاقائی روابط، تجارت اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ پاکستان اور ازبکستان تمام شعبوں میں فعال تعاون جاری رکھیں گے۔ پاکستان کا عزم ہے کہ پارلیمانی روابط، اقتصادی تعاون اور علاقائی منصوبوں کے ذریعے خطے میں امن و خوشحالی کو فروغ دیا جائے۔











