اقوامِ متحدہ، 6 اکتوبر ( اے پی پی): اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں “خواتین، امن اور سلامتی” کے موضوع پر کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایک بار پھر سیکرٹری جنرل کی رپورٹ میں کشمیری خواتین کی حالتِ زار کا ذکر موجود نہیں، وہ خواتین جنہوں نے دہائیوں پر محیط بھارتی قبضے کے دوران جنسی تشدد کو بطورِ ہتھیار برداشت کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا جب خواتین، امن اور سلامتی کے بارے میں تاریخی قرارداد 1325 کے منظور ہونے کے پچیس سال مکمل ہونے کا دن منا رہی ہے وہیں پاکستان نے آج اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر اور فلسطین کی خواتین کی حالتِ زار کی جانب عالمی توجہ دلائی۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ خواتین جو جنگ کے بدترین اثرات جھیل رہی ہیں۔غزہ کے تباہ شدہ زچگی ہسپتالوں سے لے کر کشمیر کے خاموش گاؤں تک، جہاں بے گناہوں پر ڈھائے گئے مظالم اور قبضے کی پالیسیوں نے انہیں عالمی مکالمے سے غائب کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین، امن اور سلامتی کے ایجنڈے سے کشمیری خواتین کو خارج کرنا، اس کی ساکھ کو ختم کرنے کے مترادف ہے اور اس کی آفاقیت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ جموں و کشمیر کا تنازعہ اس کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے، لہٰذا مستقبل کی رپورٹس میں ان کی حالتِ زار کا ذکر لازمی شامل ہونا چاہیے۔
صائمہ سلیم نے اقوامِ متحدہ کے مختلف انسانی حقوق کے اداروں بشمول ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق اور سپیشل پروسیجرز کے ساتھ ساتھ ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، اور ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز (Médecins Sans Frontières) جیسی تنظیموں کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ان مظالم کو ریکارڈ کیا ہے، جن میں ڈھانچہ جاتی استثنیٰ، خواتین صحافیوں اور انسانی حقوق کی کارکنوں کو ہراساں کرنا، جبری طور پر لاپتہ افراد کی خواتین رشتہ داروں پر انتقامی کارروائیاں، تشدد، من مانی گرفتاریاں، اور جنسی تشدد و اذیت کے وسیع پیمانے پر واقعات شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی خواتین کی حالتِ زار ہمارے دور کا سب سے المناک سانحہ ہے۔
انہوں نے اقوامِ متحدہ کیصنفی برابری کی حکمتِ عملی اور امن مشنز میں خواتین کے کردار میں توسیع کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
صائمہ سلیم نے تمام اقوامِ متحدہ کی ثالثی شدہ عملوں میں خواتین کی نمائندگی کے لیے لازمی حد مقرر کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ تحقیق سے واضح ہے کہ وہ امن معاہدے جن میں خواتین شامل ہوں، زیادہ پائیدار ثابت ہوتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ خواتین کو بین الاقوامی قانون کے تحت تحفظ فراہم کیا جائے، جنسی تشدد کو بطورِ ہتھیار استعمال کرنے والوں کا احتساب یقینی بنایا جائے، اور بحرانوں کے محاذ پر سرگرم خواتین کی تنظیموں کو پائیدار مالی معاونت دی جائے — کیونکہ یہ خواتین اکثر سب سے پہلے مدد کو پہنچتی ہیں اور سب سے آخر میں واپس جاتی ہیں۔











