اقوام متحدہ، 07 اکتوبر ( اے پی پی(:اقوام متحدہ میں پاکستان کے فرسٹ سیکرٹری سرفراز احمد گوہر نے خواتین، امن و سلامتی سے متعلق سلامتی کونسل کے کھلے مباحثے کے دوران بھارتی مندوب کے ریمارکس کے جواب میں کہا کہ بھارت کے ریمارکس دراصل اس کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنے خوفناک ریکارڈ سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جموں و کشمیر بھارت کا “اٹوٹ انگ” نہیں بلکہ ایک متنازعہ علاقہ ہے، جسے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں نے واضح طور پر تسلیم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان قراردادوں میں اقوامِ متحدہ کی زیرِ نگرانی استصوابِ رائے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بھارت نے ان قراردادوں کو تسلیم کیا تھا اور وہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 25 کے تحت ان پر عمل درآمد کا پابند ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے مباحثے کا موضوع ۔ خواتین، امن اور سلامتی ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے حالات پر نہایت تکلیف دہ طور پر صادق آتا ہے۔ دہائیوں سے کشمیری خواتین بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں بدترین مظالم کا سامنا کر رہی ہیں ۔ جنسی تشدد، ہراسانی، من مانے گرفتاریاں اور اجتماعی سزا۔ ان خواتین کی حالتِ زار اس کونسل کی فوری توجہ کی مستحق ہے۔
سرفراز احمد گوہر نے مزید کہا کہ آج کے بھارت میں ہندوتوا نظریہ ریاستی پالیسی بن چکا ہے۔ مسلمانوں، عیسائیوں، دلتوں اور دیگر اقلیتوں کو کھلے عام ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ “جینوسائیڈ واچ” نے امریکی کانگریس کی ایک بریفنگ میں خبردار کیا تھا کہ بھارتی ریاست آسام اور بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں نسل کشی کے “ابتدائی آثار اور عمل” نمایاں ہو چکے ہیں۔











