اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری سے ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر جمال بکر عبداﷲ نے بدھ کو یہاں ایوان صدر میں الوداعی ملاقات کی ہے۔
آصفہ بھٹو زرداری نے پاکستان اور ایتھوپیا کے درمیان دوستی کو فروغ دینے میں سفیر کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم تھے جنہوں نے ایتھوپیا کا دورہ کیا ، اب وقت آ گیا ہے کہ بادشاہ نجاشی کے دور سے باہمی احترام اور یکجہتی پر قائم ان تاریخی تعلقات کو مزید مضبوط کیا جائے۔ خاتون اول نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ 10 بڑے ممالک میں شامل ہے، ان کے حلقے میں بھی سیلاب سے متاثرہ کمیونٹیز کے لیے بڑے پیمانے پر تعمیر نو اور شجرکاری کی سرگرمیاں جاری ہیں۔
آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان اور ایتھوپیا گرین پاکستان انیشی ایٹو اور ایتھوپیا کے کامیاب جنگلات کے ماڈل کے تحت موسمیات سے ہم آہنگ زراعت، قابل تجدید توانائی اور ارلی وارننگ سسٹم پر مل کر کام کر سکتے ہیں۔ انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری، زراعت اور موسمیاتی کارروائی میں تعاون کو بڑھانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے اقتصادی روابط کو بھی سراہا جس میں دوطرفہ تجارتی معاہدے کی تکمیل، اس سال کے آخر میں عدیس ابابا میں سنگل کنٹری نمائش اور کراچی اور عدیس ابابا کے درمیان براہ راست پروازوں کی بحالی شامل ہے جو کہ زیادہ سے زیادہ رابطے اور عوام کے درمیان رابطوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
سفیر نے پاکستان میں ایتھوپیا کے پہلے سفیر کی حیثیت سے پاکستان کا مثبت امیج پیش کرنے اور دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں خاتون اول کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی توجہ دونوں ممالک کے درمیان دیرپا روابط استوار کرنے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے پاکستان کو عالمی منظر نامے میں ایک مضبوط شراکت دار کے طور پر بیان کیا۔ڈاکٹر جمال بکر عبد اللہ نے ایک ابھرتی ہوئی مارکیٹ کے طور پر ایتھوپیا کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افریقی خطہ پاکستان کے لیے تجارت اور سرمایہ کاری کے اہم مواقع فراہم کرتا ہے۔
خاتون اول نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری جاری رہے گی۔ ملاقات میں سینیٹر شیری رحمان بھی موجود تھیں۔











