سی پیک فیز ٹو کا باضابطہ آغاز، روزگار، برآمدات اور ٹیکنالوجی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، وفاقی وزیر احسن اقبال

17

اسلام آباد: 8 اکتوبر )اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیرِ صدارت 14ویں جے سی سی اجلاس کے بعد پہلا سی پیک جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سی پیک فیز ٹو کے منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

وفاقی وزیر نے متعلقہ وزارتوں کو سی پیک فیز ٹو کے تحت نئے منصوبے تیار کرنے اور خصوصی اقتصادی زونز  میں سہولتوں کی فراہمی میں تیز رفتاری لانے کی ہدایت کی۔ اُنہوں نے کہا کہ ایسے منصوبے ترجیحی بنیادوں پر شروع کیے جائیں جو عوامی زندگی پر دیرپا اور مثبت اثرات مرتب کریں۔

پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ 14ویں جے سی سی اجلاس پاکستان اور چین کے تعلقات میں نئے سفر کی بنیاد ثابت ہوا ہے، جبکہ پاکستان اور چین کے تعلقات کی75ویں سالگرہ کے موقع پر پندرہواں جے سی سی اجلاس پاکستان میں منعقد ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جے سی سی اجلاس میں سی پیک کے دوسرے مرحلے (فیز ٹو) کا باضابطہ آغاز کیا گیا، جس میں زراعت، صنعت، عوام سے عوام روابط، اور آئی ٹی کے شعبے شامل کیے گئے ہیں۔ سی پیک فیز ٹو میں نجی شعبے کے کردار کو مزید مضبوط بنانے اور نوجوانوں کو ہنر مند بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سی پیک فیز ٹو پاکستان اور چین کے تعلقات کو نئی مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے منصوبے روزگار، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے مواقع فراہم کر رہے ہیں، جب کہ سی پیک فیز ٹو پاکستان کی برآمدات میں خاطر خواہ اور پائیدار اضافے کا موجب بنے گا۔

پروفیسر احسن اقبال نے بتایا کہ پاکستان کے فائیو ایز (5Es) کو چین کی پانچ راہداریوں  کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا رہا ہے تاکہ ترقی کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے مضبوط تعلقات معاشی بحالی اور دیرپا استحکام کے ضامن ہیں۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ چین کے تعاون سے قائم ڈی سیلینیشن پلانٹ نے گوادر میں پانی کی فراہمی کی صورتحال میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جس طرح سی پیک فیز ون کو تسلسل اور کامیابی سے مکمل کیا گیا، فیز ٹو کو بھی اسی جذبے اور لگن کے ساتھ کامیاب بنایا جائے گا۔

احسن اقبال نے بتایا کہ معاشی روزگار کاریڈور کے تحت پاکستان کے پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے چینی ماڈل پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مزید برآں، پاکستان اور چین کے اقتصادی تھنک ٹینکس کے درمیان ڈویلپمنٹ ریسرچ سینٹر کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط بھی ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈویلپمنٹ ریسرچ سینٹر کے تعاون سے پاکستان کو برآمدات میں فروغ اور پالیسی سازی میں اہم مدد حاصل ہوگی۔