بھارتی وفد کے بیان پر پاکستانی سفارتکار صائمہ سلیم کا حقِ جواب

10

اسلام آباد، 9 اکتوبر (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کی تیسری کمیٹی کے عمومی مباحثے کے دوران بھارتی وفد کے بیان پر پاکستانی سفارتکار  صائمہ سلیم نے اپنے حقِ جواب میں کہا کہ پروپیگنڈا ظلم و ستم کو نہیں چھپا سکتا اور انکار سے جھوٹ سچ نہیں بن جاتا۔ انہوں نے کہا کہ جمّوں و کشمیر بھارت کا کبھی حصہ نہیں رہا اور سلامتی کونسل کی قراردادیں اس حقیقت کی گواہ ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔ کشمیری عوام بھارتی قبضے کے تحت ریاستی دہشت گردی اور سنگین انسانی حقوق کی پامالیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے تو وہ اقوامِ متحدہ کے طریقۂ کار، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی ذرائع ابلاغ کو مقبوضہ علاقے تک رسائی دے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی نام نہاد جمہوریت عدم برداشت کے ایک تماشے میں تبدیل ہو چکی ہے، جہاں مذہبی انتہا پسندی اور نفرت کو ادارہ جاتی شکل دے دی گئی ہے۔ ہندوتوا کے زیرِ اثر اقلیتیں خوف کے سائے میں زندگی گزار رہی ہیں، مسلمان ہجوم کے تشدد کا نشانہ بنتے ہیں، مساجد منہدم کی جاتی ہیں، کلیسا جلائے جاتے ہیں اور نفرت انگیز تقاریر معمول بن چکی ہیں۔