پہلے فلسطین،پاکستان وائس چانسلرز فورم کا افتتاح، فلسطین میں تعلیم و تحقیق کے نئے دور کی بنیاد

69

 

اسلام آباد، 16 اکتوبر (اے پی پی ): پاکستان میں او آئی سی کے زیلی ادارے کامسٹیک میں فلسطین،پاکستان وائس چانسلرز فورم کا پہلا فورم “غزہ میں اعلیٰ تعلیم و سائنسی تحقیق: مستقبل کا راستہ” کے عنوان سے منعقد ہوا۔ اس فورم کا مقصد فلسطین اور پاکستان کے تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون، تحقیق اور افرادی قوت کی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیرِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی تھے، جبکہ پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چودھری، کوآرڈینیٹر جنرل کامسٹیک نے استقبالیہ خطاب کیا۔ تقریب میں مختلف ممالک کے سفراء،  اعلی حکومتی و سائنسی تحقیقی اداروں کے سربراہان 40 سے زائد پاکستانی جامعات کے وائس چانسلرز و نمائندگان سمیت اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ یہ فورم غزہ میں تباہ شدہ تعلیمی و تحقیقی ڈھانچے کی بحالی کی سمت ایک تاریخی قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ صرف اظہارِ یکجہتی کر رہا ہے بلکہ تحقیق، جدت اور اعلیٰ تعلیم کے ذریعے عملی تعاون بھی فراہم کر رہا ہے۔

انہوں نے کامسٹیک کی جانب سے فلسطینی نوجوانوں کے لیے 5000 فیلوشپس کے اعلان اور بی ایل ایس و ٹراما مینجمنٹ کورسز سمیت فنی تربیتی پروگراموں کو “غزہ میں انسانی وسائل کی تعمیر کی حقیقی کوشش” قرار دیا۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چودھری نے کہا کہ غزہ کی یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کی بحالی کے لیے ایک جامع روڈمیپ تشکیل دیا جا رہا ہے، تاکہ تعلیم و تحقیق کی وہ شمع دوبارہ روشن ہو جو جنگ بھی بجھا نہیں سکی۔

الاقصیٰ یونیورسٹی غزہ کے صدر  پروفیسر ڈاکٹر ایمن الصباح نے پاکستان اور کامسٹیک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ “یہ فورم ہمیں امید دیتا ہے کہ ہم اپنی جامعات کو دوبارہ تعمیر کر سکیں گے۔ پاکستان کے ساتھ علمی تعاون ہمارے طلبہ اور محققین کے لیے نئے دروازے کھولے گا۔

سات رکنی فلسطینی وفد، جس میں جامعات کے صدور اور اعلیٰ ماہرین شامل ہیں، ایک ہفتے کے دورے پر پاکستان میں ہے۔ وفد اسلام آباد، فیصل آباد اور لاہور کی مختلف جامعات کا دورہ کر کے تعلیمی تعاون کے امکانات پر بات کرے گا۔

فورم میں نظامت کے فرائض کامسٹیک کے فوکل پرسن برائے کامسٹیک کنسورشیم آف ایکسلینس محمد مرتضی نے فرائض سرانجام دیے۔