ایڈس ابابا، 18 اکتوبر ( اے پی پی): پاکستان-افریقہ تجارت کانفرنس کا دوسرا دن باہمی تعاون، اقتصادی ترقی اور ثقافتی تعلقات کے نئے باب کا آغاز بن گیا۔ کانفرنس کے دوسرے دن افریقی یونین کے چیئرمین محمود علی یوسف نے “میڈ اِن پاکستان” نمائش کا دورہ کیا، جہاں پاکستانی اور افریقی تاجروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اس موقع پر وزیرِ تجارت جام کمال خان نے چیئرمین افریقی یونین کا پرتپاک استقبال کیا اور پاکستان کے افریقہ کے ساتھ دیرپا اور پائیدار تجارتی تعلقات کے عزم کا اعادہ کیا۔
جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان اور ایتھوپیا کے تعلقات اعتماد، ٹیکنالوجی اور ترقی پر مبنی ہوں گے، اور یہ کانفرنس دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری کے نیا دور شروع کرنے کا موقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان افریقہ کے ساتھ اپنی تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
چیئرمین افریقی یونین محمود علی یوسف نے کانفرنس کو بین العلاقائی تعاون کا کامیاب ماڈل قرار دیا، اور کہا کہ پاک-افریقہ تجارت کا یہ سلسلہ دونوں خطوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
نمائش کے دوران زرعی، فارماسیوٹیکل، انجینئرنگ اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں نئے تعاون کے امکانات سامنے آئے۔ مختلف شعبوں کے ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ مشترکہ کوششوں سے دونوں ممالک میں تجارتی تعلقات میں مزید فروغ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
شریٹن ہوٹل ایڈس میں ہونے والی پریس بریفنگ میں پاکستان اور ایتھوپیا کے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ ایتھوپیا کے سفیر جمال بکر نے اس بات پر زور دیا کہ نجی شعبے کا تعاون دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا، اور اس سے نئی سرمایہ کاری کے دروازے کھلیں گے۔گالا ڈنر میں پاکستانی و ایتھوپائی ثقافتی رنگوں کی جھلک دیکھنے کو ملی، جہاں مہمانوں نے بھرپور شرکت کی۔
سیاَلکوٹ کی ایمبیسیڈر اسپورٹس نے ایتھوپین بچوں کے کلبوں کو فٹ بالز تحفے میں دیں، جو ایک علامت تھی دونوں قوموں کے درمیان ثقافتی تعلقات کی مزید مضبوطی کی۔
کانفرنس کے تیسرے دن مزید B2B سیشنز اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع زیرِ غور آئیں گے، جس سے توقع کی جا رہی ہے کہ دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات میں مزید ترقی ہوگی۔











