چھاتی میں گلٹی کی موجودگی لازمی طور پر کینسر نہیں ہوتی، درست تشخیص کے لیے بائیوپسی ضروری ہے؛ ڈاکٹر ثمینہ آصف

13

اسلام آباد، 23 اکتوبر (اے پی پی): نوری ہسپتال اسلام آباد کے شعبہ آنکالوجی کی سربراہ ڈاکٹر ثمینہ آصف نے کہا ہے کہ چھاتی میں گلٹی کی موجودگی لازمی طور پر کینسر کی علامت نہیں ہوتی اور درست تشخیص کے لیے بائیوپسی ایک بنیادی اور محفوظ طریقہ کار ہے۔

انہوں نے جمعرات کو اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ زیادہ تر خواتین چھاتی میں گلٹی محسوس ہونے کے بعد ہسپتال آتی ہیں، تاہم ہر گلٹی کینسر نہیں ہوتی۔ مریضہ کی عمر اور علامات کے مطابق ماہرین میموگرام، الٹراساؤنڈ یا ایم آر آئی جیسے ٹیسٹ تجویز کرتے ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ بائیوپسی کی ضرورت ہے یا نہیں۔

ڈاکٹر ثمینہ آصف کے مطابق بائیوپسی ایک سادہ ٹیسٹ ہے جو کینسر کے پھیلاؤ کا سبب نہیں بنتا بلکہ بیماری کی حتمی تشخیص کے لیے ناگزیر ہے۔ اگر کینسر کی تشخیص ہو جائے تو مزید ٹیسٹوں کے ذریعے بیماری کی سٹیج معلوم کی جاتی ہے تاکہ علاج کا درست مرحلہ طے کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ عوامی سطح پر یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ بائیوپسی کے بعد کینسر پھیل جاتا ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس بائیوپسی سے ہی مرض کی نوعیت اور شدت کا درست اندازہ ممکن ہوتا ہے۔

ڈاکٹر ثمینہ آصف نے وضاحت کی کہ تمام گلٹیاں جڑوں والی نہیں ہوتیں۔ بعض بینائن یا غیرسرطانی گلٹیاں بھی ہوتی ہیں جنہیں کبھی کبھار ان کے سائز یا جسم میں موجودگی کی جگہ کے باعث سرجری سے ہٹانا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر قسم کی گلٹی کے لیے ماہر ڈاکٹر سے مکمل معائنہ اور تشخیص ضروری ہے تاکہ غیرضروری خوف یا تاخیر سے بچا جا سکے۔