اسلام آباد، 30 اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان کی طالبات مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں اور وہی اس ملک کا مستقبل اور مقدر بننے جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حصولِ علم انسانیت کی پہچان اور ترقی کا واحد راستہ ہے اور ہمیں اس حوالے سے کسی ابہام کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ پاکستان کی بیٹیاں اپنی صلاحیتوں کے بل پر نہ صرف تعلیم کے میدان میں آگے بڑھ رہی ہیں بلکہ ملک و قوم کے لیے نیا وژن بھی تخلیق کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان اپنے اداروں اور معاشرے میں خواتین کے لیے ایسا ماحول پیدا کرے گا جہاں وہ اپنی قابلیت سے ملک کو مستفید کر سکیں گی۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان ایک نظریہ اور ایک دین کے لیے قائم ہوا تھا اور آج بھی امتِ مسلمہ کی پہچان اسی نظریے سے وابستہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں کوئی بھی ملک تنہا ترقی نہیں کرتا بلکہ جب بھی ترقی ہوتی ہے تو پورا خطہ آگے بڑھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے یورپ نے اجتماعی ترقی کے ذریعے عروج حاصل کیا اسی طرح جنوبی ایشیا کے ممالک کو بھی مشترکہ ترقی کے لیے اپنی ترجیحات طے کرنا ہوں گی۔
وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ آنے والے پچاس سال دنیا میں تیز ترین تبدیلی کے حامل ہوں گے اور وہ اقوام جو خود کو بدلنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں، مقابلے سے باہر ہو جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تیز رفتار دنیا میں وہی قومیں کامیاب ہوں گی جو خود کو بدلنے کا ارادہ رکھتی ہیں کیونکہ خدا بھی ان اقوام کو نہیں بدلتا جو خود کو بدلنے کا عزم نہیں رکھتیں۔
انہوں نے کہا کہ جدید دنیا نے علم، دانش، سائنس اور ٹیکنالوجی میں غیر معمولی ترقی کر لی ہے اور ہمیں ان میدانوں میں سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم ایمانداری سے محنت کریں اور سیکھنے کے عمل کو اپنائیں تو آنے والے چند عشروں میں پاکستان بھی ترقی یافتہ اقوام کی صف میں شامل ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کی بطور وفاقی وزیر تعلیم یہ ذمہ داری ہے کہ پورے پاکستان میں ایسا تعلیمی ماحول پیدا کیا جائے جہاں قوم کو ہر سال نئی امید اور نئی جہت ملے۔ علم اور دانش کے فروغ کے ذریعے ہی آنے والی نسلوں کا مستقبل روشن بنایا جا سکتا ہے۔











