لوک ورثہ میں رنگا رنگ’ دس روزہ سالانہ لوک میلہ ‘

15

اسلام آباد، 07 نومبر (اے پی پی ): پاکستان کے تمام صوبوں کی ثقافت کے ساتھ ، لوک ورثہ شکر پڑیاں میں رنگا رنگ دس روزہ سالانہ لوک میلہ کا آغاز ہو گیا۔

اس سال کا لوک میلہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے، اس سال لوک ورثہ کے قیام کی گولڈن جوبلی بھی منائی جا رہی ہے، جو پاکستان کی ثقافتی تاریخ کا ایک قابل فخر سنگ میل ہے۔

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت، اورنگزیب خان کھچی نے میلہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے کہا کہ میلہ صرف ثقافتی تقریب نہیں بلکہ یہ پاکستان کی پہچان اور ہماری شناخت کا جشن ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم ایک زندہ توانا اور تہذیبی طور پر مضبوط قوم ہیں۔

انھوں نے لوک ورثہ کو اس کے 50 سالہ سفر پر مبارکباد دی اور کہا کہ لوک ورثہ نے پاکستان کی تہذیبی شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لوک میلہ کی یہ گولڈن جوبلی نہ صرف ہمارے ثقافتی ورثے کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے بلکہ قومی یکجہتی کی علامت بھی ہے۔ ایسے ثقافتی پلیٹ فارمز امن، ہم آہنگی اور عوام میں باہمی تعلق مضبوط کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ میں خصوصاً نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اس مشترکہ ورثے کی اس عظیم الشان تقریب میں بھرپور شرکت کریں اور قوم کے طور پر ہمارے بندھن کو مضبوط کریں۔

لوک میلہ نیشنل ہیریٹیج اینڈ کلچر ڈویژن کے تحت نیشنل انسٹیٹیوٹ آف فوک اینڈ ٹریڈیشنل ہیریٹیج (لوک ورثہ) کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا ہے جس کا مقصد پاکستان کی روایات، دستکاریاں ، موسیقی اور کھانوں کی دُنیا کی جھلکیاں اور ذائقے لوگوں تک پہنچانا ہے۔

میلے میں ملک بھر سے فنکار، دستکار اور ثقافت کے دلدادہ افراد وفاقی دارالحکومت میں جمع ہو کر پاکستان کے رنگا رنگ ورثے کا جشن مناتے ہیں۔

اس سال کے لوک میلہ کا موضوع “یکجہتی کے رنگ، لوک ورثہ کےسنگ” ہے، جس کا مقصد قومی یکجہتی اور ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ میلے میں پاکستان کے تمام صوبوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی نمائندگی کرنے والے خصوصی سٹالز اور پویلینز  سجائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ لوک موسیقی، تھیٹر، پتلی تماشہ، روایتی رقص، دستکاریاں اور روایتی کھانوں کے اسٹالز لوگوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔