اسلام آباد، 12 نومبر (اے پی پی):مارگلہ ڈائیلاگ 2025 کے مقررین نے کہا ہے کہ پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع اور اقتصادی حیثیت خطے میں رابطوں کے فروغ کے لیے کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی تعاون، امن و استحکام اور ترقی کے لیے مشترکہ لائحہ عمل ناگزیر ہے۔
’’علاقائی سلامتی، رابطہ کاری اور معیشت’’ کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ انتہاپسندی اور غیر قانونی سرگرمیوں جیسے چیلنجز مشترکہ حکمتِ عملی کے متقاضی ہیں جن کا مقابلہ کسی ایک ملک کے بس کی بات نہیں۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کی صورتحال نے علاقائی سلامتی کے تقاضوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے لیے اجتماعی سطح پر مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ علاقائی سطح پر پائیدار ترقی، اقتصادی استحکام اور رابطہ کاری کے فروغ کے لیے باہمی اعتماد، کھلی تجارت اور موثر مکالمے کی فضا ناگزیر ہے۔
مقررین نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں تجارتی، توانائی اور ڈیجیٹل رابطے کمزور ہیں جس کے باعث خطے کے درمیان تجارت محدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اسے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا کے درمیان قدرتی راہداری بناتی ہے۔
مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کی آبادی، صنعتی صلاحیت اور بین الاقوامی فورمز میں فعال شمولیت اسے خطے کے لیے ایک مؤثر رابطہ مرکز بناتی ہے۔
مقررین نے کہا کہ پاکستان ایک ایسے مرحلے پر کھڑا ہے جہاں اسے اپنی اقتصادی و جغرافیائی صلاحیتوں کے درست استعمال کے ذریعے خطے کے مستقبل کے تعین میں قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔











