اسلام آباد، 19 نومبر ( اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت اجلاس منعقد ہوا، جس میں موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے بچاؤ اور آئندہ برس کے مون سون سیزن کی پیشگی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وزیرِ اعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ کسی بھی ممکنہ جانی و مالی نقصان سے بچنے کے لیے ابھی سے جامع منصوبہ بندی کی جائے۔وزیرِ اعظم نے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی، وزارتِ منصوبہ بندی اور این ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ وہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ایک مربوط حکمتِ عملی تیار کریں تاکہ مون سون کے دوران ہنگامی حالات سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
اجلاس کے دوران پیش کیے گئے قلیل مدتی منصوبے کی فوری منظوری بھی دے دی گئی، جس پر فوری طور پر عملدرآمد کا حکم جاری کیا گیا۔وزیرِ اعظم نے ملک میں پانی کے بہتر انتظام کے لیے قومی سطح پر حکمتِ عملی وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نیشنل واٹر کونسل کا اجلاس بلانے کی ہدایت بھی کی۔
انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کو ہر تیسرے سال موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اپنے جی ڈی پی کا بڑا حصہ خرچ کرنا پڑتا ہے، اور اس کے محدود وسائل ترقی کے بجائے نقصانات کی تلافی پر لگ جاتے ہیں۔
اجلاس میں شرکاء کو آئندہ مون سون سیزن سے متعلق عالمی تخمینوں اور وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے قلیل، وسط اور طویل مدتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔وزیرِ اعظم نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر سرگرم ہو جائیں تاکہ آئندہ مون سون کے دوران ممکنہ خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔











