اسلام آباد،28 نومبر(اے پی پی ): وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے یورپی یونین کمیشن کے مانیٹرنگ مشن نے ملاقات کی۔
ملاقات میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
مشن کی قیادت سرجیو بلیبریا نے کی جبکہ یورپی یونین کے سفیر ریمونڈس کاروبلس بھی شریک تھے۔
وزیر تجارت نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے اور جی ایس پی پلس نے تجارت، روزگار اور پائیدار ترقی کو فروغ دیا ہے۔وزیر تجارت نے 27 بین الاقوامی کنونشنز پر عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے پانچویں دو سالہ جائزے میں مثبت پیش رفت کی امید ظاہر کی۔
ملاقات میں نئے جی ایس پی پلس فریم ورک میں غیر ضروری شرائط نہ لگانے کی درخواست بھی کی گئی۔
ایتھنول پر جی ایس پی مراعات کی واپسی پر وزیر تجارت نے تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس فیصلے سے کسانوں کی روزی متاثر ہوئی ہے۔ باسمتی چاول کی جی آئی رجسٹریشن کے منصفانہ عمل کی امید ظاہر کی گئی، جبکہ سندھ اجرک، پنک سالٹ اور آم کو بھی جی آئی تحفظ دینے کی سفارش کی گئی۔
ملاقات کے اختتام پر پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان مستحکم جی ایس پی پلس شراکت داری جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔











