چیئرمین سینیٹ سے جرمن سفیرکی  ملاقات،پاکستانی تربیت یافتہ نوجوان جرمن لیبر مارکیٹ کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں، سید یوسف رضا گیلانی

12

اسلام آباد، 28نومبر(اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے جرمن سفیراینا لیپل نےبروز جمعہ پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔چیئرمین سینیٹ نے پارلیمانی، اقتصادی، ترقیاتی اور عوام سے عوام کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔

 چیئرمین سینیٹ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان جرمنی کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے بالخصوص پارلیمانی سفارت کاری، اقتصادی شعبوں اور دفاعی شعبوں میں۔  انہوں نے پاکستان پر بنڈسٹیگ کے پارلیمانی دوستی گروپ کی جلد تشکیل کی حوصلہ افزائی کی، اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ پاکستان کے پاس جرمنی میں پہلے سے ہی ایک فعال پارلیمانی فرینڈشپ گروپ موجود ہے۔  انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ جرمنی کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے خواہاں ہیں۔

چیئرمین سینیٹ نے موسمیاتی تبدیلی کو دونوں ممالک کی مشترکہ ترجیح قرار دیتے ہوئے کلائمیٹ اینڈ انرجی پارٹنرشپ کو بڑھانے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے قابلِ تجدید توانائی اور گرین انرجی کے شعبوں میں وسیع مواقع کی نشاندہی بھی کی۔

چیئرمین سینیٹ نے فنی و پیشہ ورانہ تربیت میں تعاون بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی تربیت یافتہ نوجوان جرمن لیبر مارکیٹ کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

چیئرمین سینیٹ نے پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے حصول میں جرمنی کی مستقل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے تجارتی شعبے میں تعاون کے مزید اضافے مزید اضافے پر زور دیتے ہوئے جرمن کاروباری اداروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔ انہوں نے سفیر کو بتایا کہ ایس آئی ایف سی (SIFC) سرمایہ کاروں کے لیے ون وِنڈو آپریشن فراہم کر رہا ہے جس سے سرمایہ کاری کے عمل میں آسانیاں پیدا ہوئی ہیں۔

چیئرمین سینیٹ نے جرمنی میں پاکستانی طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد پر اطمینان کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان دفاعی تعاون سات دہائیوں سے زائد پر محیط ہے۔ مشترکہ منصوبوں اور باہمی تحقیق و ترقی کے ذریعے اس تعاون کو مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔ افغان باشندوں کی منتقلی سے متعلق گفتگو کے دوران چیئرمین سینیٹ نے جرمنی کے تعاون سے جاری افغان ری لوکیشن پروگرام کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے چار دہائیوں تک 35 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی، مگر اب عالمی برادری نے اس مسئلے کو نظر انداز کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیاہے کہ افغان مہاجرین کے مسئلے پر عالمی برادری خصوصی توجہ دے اور پاکستان کے معاونت کرے۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقوں نے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے اور باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ جرمن سفیر نے اسلام آباد میں حالیہ دہشت گردی کے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کو خطے اور دنیا میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔