لودھراں( 3 دسمبر 2025)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے جائیدادوں کے تحفظ سے متعلق انقلابی اقدام کے تحت لودھراں میں شہریوں کی اراضی اور گھروں کے قبضے واگزار کرانے والی کمیٹی کا اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔
اجلاس کی صدارت ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر لبنیٰ نذیر اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر علی بن طارق نے مشترکہ طور پر کی۔ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر لبنیٰ نذیر نے واضح کیا کہ شہریوں کی ملکیتی جائیدادوں پر غیرقانونی قبضے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ شہریوں کے حقِ ملکیت کی بحالی کے لیے مؤثر اور تیز رفتار اقدامات کر رہی ہے، جبکہ تحفظِ ملکیت آرڈیننس کے تحت متاثرین کو ان کی اراضی اور گھروں کے قبضے واپس دلائے جا رہے ہیں۔ڈی پی او علی بن طارق نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی مشترکہ ٹیمیں ناجائز قابضین سے قبضے فوری طور پر واگزار کرا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق قبضہ واگزار کمیٹیاں درخواستوں کا 90 دن کے اندر فیصلہ کرنے کی پابند ہیں اور فیصلہ ہوتے ہی ٹیمیں موقع پر پہنچ کر قبضہ دلوا دیتی ہیں۔
ڈی پی او نے مزید بتایا کہ غیرقانونی قبضہ ثابت ہونے کی صورت میں تحفظِ ملکیت آرڈیننس 2025 کے تحت 5 سے 10 سال قید کی سزا مقرر کی گئی ہے۔اجلاس میں ریونیو کیسز کے فریقین کا مؤقف سنا گیا، جبکہ متعدد کیسز میں فوری کارروائی اور موقع پر قبضے واگزار کرانے کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔
اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو سید وسیم حسن شاہ، اسسٹنٹ کمشنرز ارم شہزادی، اصغر لغاری، غلام مصطفیٰ جٹ اور ڈی ایس پیز نے شرکت کی۔











