ایک شخص  اور  اس کا بیانیہ قومی سلامتی کیلئے خطرے کا باعث بن گیا ہے، کسی کوعوام  اور فوج کے خلاف بھڑکانے  اور  ان کے درمیان دراڑ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی پریس کانفرنس

10

راولپنڈی۔5دسمبر  (اے پی پی):پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ایک شخص  اور  اس کا بیانیہ قومی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث بن گیا ہے، کسی کوعوام  اور فوج کے خلاف بھڑکانے  اور  ان کے درمیان دراڑ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے، ان کے جھوٹے  اور  بے سروپا بیانیہ کی بنیاد پر بھارتی  اور افغانی میڈیاپاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتےہیں، دہشت گردوں سے مذاکرات کے لیے تیار نہیں، صرف افغان طالبان رجیم سے ریاست کی سطح پر بات چیت ہوگی۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی پر سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، چیف آف ڈیفنس فورسز نے کام شروع کر دیا ہے، موجودہ وارفیئر کی صورت حال میں زمینی ،فضائی ،بحری  اور  سائبر سمیت تمام شعبوں کامربوط انداز میں کام کرنا ضروری ہے، یہ اقدام دیرینہ ضرورت تھی،دیگر ممالک میں بھی اس طرح کے ہیڈکوارٹرز ہیں، پارلیمنٹ کی ہدایت پر یہ اقدام ملکی دفاع کا اہم سنگ میل ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ایک شخص کی وجہ سے قومی سلامتی کو خطرات کا سامنا ہے، ایک شخص کی ذات  اور  خواہشات ریاست پاکستان سے بڑھ کر ہیں  اور  وہ اتنی زیادہ ہیں کہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نہیں تو کچھ نہیں، اس کا نظریہ پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث ہے، اس کی سیاست ختم ہوچکی ہے ۔وہ  اور  اس کا بیانیہ ریاست کے لیے خطرے کا باعث ہے۔اس بیانیہ کو بیرونی ایکٹرز کے ذریعے فروغ مل رہا ہے۔ انہوں نے کہ ہم ملک کی کسی سیاسی جماعت، لسانیت، مذہب، فرقہ یا مکتبہ فکر کی نمائندگی نہیں کرتے، ہمارا تعلق کسی ایلیٹ طبقے سے نہیں، ہم مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں، ہم وطن کے تحفظ  اور  استحکام کے لیے دن رات قربانیاں دے رہے ہیں،ہم باربارواضح کر چکے ہیں کہ مسلح افواج پاکستان کی محافظ ہیں۔اگر کوئی اپنی ذات  اور  اپنی نامناسب سوچ کے لیے فوج  اور  اس کی لیڈر شپ پر حملے کرتا ہے تو یہ عمل درست نہیں، ہم تمام سیاسی جماعتوں کا احترام کرتے ہیں، آپ کو جو سیاست کرنی ہے کریں ،فوج کو اس سے دور رکھیں، ہم سیاست کا حصہ نہیں ،فوج  اور  عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جاسکتی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نےکہاکہ یہ برداشت نہیں کیا جائے گا کہ پاکستان کے عوام کو فوج کے خلاف بھڑکایا جائے، یہی فوج ہے جو ملک کی ڈھال ہے، فتنہ الخوارج فتنۃ الہندوستان، بھارت  اور  عوام کے درمیان یہی فوج کھڑی ہے، اس ایک شخص نے ریاست مخالف بیانات دیئے،کس آئین  اور  سیاست میں اس کی اجازت ہےکہ مجرم سے ملاقات کی جائے جو ملک  اور  پاک فوج بیانیہ بنائے۔اس ایک شخص نے بجلی کے بل جمع نہ کرانے، ترسیلات زر پاکستان نہ لانے کی ترغیب دی، عوام کو فوج کے خلاف بھڑکایا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس موقع پر ایک ویڈیو پیش کی جس میں بتایا گیا کہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا اکائونٹس افغانستان  اور  بھارت سے ہینڈل ہو رہے ہیں۔انہوں نے علیمہ خان کا ویڈیو بیان پیش کیا جس میں وہ بھارتی ٹی وی سے بات کررہی تھیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی میڈیا کتنی خوشی سے پاکستان کے آرمی چیف کے خلاف بیانات چلاتا ہے  اور  اسے یہ بیانات کون فراہم کرتا ہے؟ یہی جماعت، یہی لوگ پاکستان کی فوج کے خلاف بات کرتے ہیں، اس جماعت کے سوشل میڈیا اکائونٹس دیکھیں، کہاں سے ٹویٹ ہوتی ہے  اور  کون اسے اٹھاتا ہے یہ سب اس ویڈیو میں دیکھیں۔

پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ بھارت کے ساتھ ساتھ افغان میڈیا بھی پاکستان کے پیچھے لگا ہوا ہے، آئین میں اظہار رائے کی آزادی کی اجازت ہے مگر قومی سلامتی پر اظہار رائے  اور  فوج کے خلاف بیانات کی اجازت نہیں ہے، یہ لوگ اپنے بیانیے کو پھیلاتے ہیں  اور  افغانستان  اور  بھارت کے لوگ اس بیانات کو بڑھاوا دیتے ہیں، بھارتی میڈیا پاکستانی فوج کے خلاف پی ٹی آئی کی زبان بنا ہوا ہے، خوارج کا سہولت کار افغان میڈیا بھی ان کے بیانات کو اچھالتا ہے۔عمران خان  نے کہا کہ جو شخص فوج میں موجود لوگوں سے تعلق رکھے گا وہ غدار ہے، اگر میں علامہ اقبال یونیورسٹی کے طلباء سے ملا ہوں تو کیا وہ لوگ غدار ہیں؟ تم کیا سمجھتے ہو خود کو؟ تم کون ہو جو غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹ رہے ہو، اس کی منطق یہ ہے کہ جو پاک فوج سے تعلق رکھے وہ غدار ہے جو آئی ایس پی آر جائے وہ غدار ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو ذہنی مریض قرار دے دیا  اور  کہا کہ اس ذہنی مریض نے 9 مئی کو فوجی تنصیبات  اور  شہداء کی یادگاروں پر حملے کروائے،اس ذہنی مریض نے دو دن پہلے ٹویٹ کیا، اس ذہنی مریض کے ٹویٹ کو افغان  اور  بھارتی میڈیا نے منٹوں میں وائرل کیا، یہ ذہنی مریض پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کررہا ہے، ان کی پارٹی سے پوچھیں تو کہتے ہیں ہمیں نہیں پتا عمران خان کے ٹویٹ کہاں سے ہوتے ہیں؟ترجمان پاک فوج نے کہا کہ یہ ذہنی مریض کہتا ہے فوج کی اس قیادت کو ٹارگٹ کریں جس نے معرکہ حق میں پاکستان کو فتح دلائی،اصل بیانیہ یہی ذہنی مریض دیتا ہے  اور  یہ صرف پاک فوج کے خلاف بیانیہ بناتا ہے، فوج کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، پروپیگنڈا سیل اپنی مرضی سے کسی کے بھی خلاف نوٹیفکیشن بنالیتا ہے، اس جماعت کے پیروکار بھارتی میڈیا کو مسلسل مواد فراہم کررہے ہیں، ذہنی مریض کی منطق کے مطابق بھارت چھ  اور  سات مئی کو پاکستان کو فتح کرچکا تھا، یہ تو پشاور  میں خارجیوں کا آفس کھلوانا چاہتے تھے، یہ دہشت گردوں کو فوج کے خلاف راستے بتاتا ہے، اپنی ذات کے اس قیدی کا بیانیہ قومی سلامتی کے خلاف ہے، یہ آئی ایم ایف سے کہتا ہے پاکستان کو قرض نہ دیں، اب یہ بیانیہ نہیں چلے گا۔

انہوں  نے کہا کہ پاک فوج کے افسران کا تعلق ایلیٹ طبقے سے نہیں، ہم عوام میں سے آئے ہیں، ہمارے افسران  اور  نوجوان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہورہے ہیں، تم فوج پر تنقید کرتے ہو، اپنے بیٹوں کو تو تم نے باہر رکھا ہوا ہے ذرا خوارج کے آگے انہیں کھڑا تو کرو۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلح افواج کے خلاف نفرت کا بیج بویا جارہا ہے حالانکہ پاک فوج کا جوان اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان جنگ میں جاتا ہے، خوارج کے سامنے کون کھڑا ہوتا ہے؟ کون اپنی جانیں دیتا ہے؟ ہم نے جانیں دینی  اور  لینی ہوتی ہیں۔18 لاکھ سے زائد غیر قانونی غیر ملکیوں کو ملک سے نکال چکے ہیں، رواں سال انسداد دہشت گردی کے 13 ہزار سے زائد اپریشن کیے گئے،جس میں 1943 دہشت گرد جہنم واصل کئے ہیں۔نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ضروری ہے،دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ بیان ضروری ہے۔

 ترجمان پاک فوج نے کہا کہ تمہاری جس صوبے میں حکومت ہے ذرا اس کے بارے میں تو بات کرو، صوبائی حکومت نے منشیات  اور  نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا خاتمہ کرنا ہے،امن و امان کے قیام کی ذمہ داری صوبائی حکومت کے پاس ہے،کے پی سے افغان مہاجرین کے خاتمے کا نوٹیفکیشن کیوں جاری نہیں کیا گیا،کے پی میں دہشت گردی چل رہی ہے، یہ کہتے ہیں آپریشن نہیں کرو، یہ کہتا ہے کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کرو، کیڈٹ کالج وانا پر حملے کرنے والوں سے ہم کیا بات کریں؟ یہ ایک ٹولہ ہمارے کے پی والے بھائیوں پر مسلط ہوگیا ہے، بیمار ذہنوں کے بارے میں قوم واضح طور پر جان چکی ہے، منفی بیانیہ ختم کرنے کی ضرورت ہے، یہ شخص بار بار شیخ مجیب الرحمان کی بات کرتا ہے، آپ کی سیاسی شعبدے بازی کا وقت ختم ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی میڈیا ریٹنگ کے لیےنان ایشوز پر بات کرتا ہے انہیں چاہیے ایشوز پر بات کریں، ہر شخص ملک بچانے کا ذمہ دار ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس شخص کا باپ بھی پاک فوج  اور  عوام کے درمیان دراڑ نہیں ڈال سکتا، ریاست فوج نہیں ہوتی، ریاست حکومت ہوتی ہے  اور  فوج ریاست کا ایک ادارہ ہے، ہم کہیں نہیں جارہے، جب تک پاکستان ہے فوج رہے گی۔

صحافیوں  کے سوالات کا جواب دیتے انہوں نے کہا کہ  گورنر راج  اور  سوشل میڈیا کے حوالے سے فیصلہ کرنا ریاست کاکام ہے۔ ہم نے آئین پر عمل کرناہے،دہشت گردی ایک دن میں ختم نہیں ہوسکتی، اس کے لیے سیاسی عزم کی ضرورت ہے، ہم نے یک زبان ہوکر بیانیہ بنایا آپ اس کے برعکس کام کررہے ہیں، آپ نے ہر چیز پر سیاست کو حاوی کردیا، یہ کہتے تھے فوج سیاست کررہی ہے لڑ نہیں سکتی مگر ہم نے لڑکر دکھایا، ہم نے اس ریاست کے تحفظ کی قسم کھائی ہے، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پاک فوج نے کسی شخص کے بارے میں ایسی بات نہیں کی کیوں کہ ماضی میں کسی سیاست دان نے ایسا کام نہیں کیا، ان کی سیاست صرف پاک فوج کے گرد گھومتی ہے یہ سمجھتے ہیں کہ عوام کو بے وقوف بنایا جاسکتا ہے مگر ایسا نہیں ہے، اب وقت ہے کہ ہمیں بتانا پڑے گا کہ یہ بیانیہ کون چلارہا ہے۔انہوں نے کہا  کہ ملک میں اس وقت سب سے زیادہ دہشت گردی خیبرپختونخوا میں ہورہی ہے، گزشتہ پانچ برس میں کے پی میں کس دہشت گرد کو پھانسی پر لٹکایا گیا؟صوبہ خیبرپختونخوا میں صحت ،تعلیم،امن وامان  اور  تعلیم کی صورت حال کیاہے۔ان کو نظم ونسق  اور  کارکردگی سے غرض نہیں،ان کی سیاست فوج  اور  ریاست مخالف بیانیہ،مس انفارمیشن  اور ڈس انفارمیشن پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کبھی بھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا، پاکستان مسلسل افغان طالبان کی حکومت سے مذاکرات کرتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گرد فتنہ الخوارج سے بات نہیں کریں گے، ہم ریاست ہیں   اور  ریاست ہی کی سطح پرافغان طالبان رجیم سےبات چیت کریں گے،دہشت گردوں کے سہولت کاروں سے کس انداز میں بات کریں۔انہوں نے کہا کہ نو مئی کے مقدمات کا فوجی عدالتوں میں میرٹ  اور  شفافیت کے ذریعے ٹرائل کیا گیا۔پاک فوج کے جوان ملک کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔نو مئی کا مقدمہ پوری قوم کا مقدمہ ہے۔