اسلام آباد، 11 دسمبر (اے پی پی ): وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کے امور کے حوالے سے ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں ٹیکس محصولات کے اہداف، ٹیکس نیٹ کی توسیع، معیشت کی ڈیجیٹائزیشن اور ٹیکس چوری کے خلاف جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ رواں مالی سال کے دوران ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو 11 فیصد کے ہدف تک پہنچانے کے لیے تمام متعلقہ محکمے اپنی کوششیں مزید تیز کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی محصولات میں اضافے کے لیے معیشت کے تمام شعبوں میں ٹیکس انفورسمنٹ یقینی بنائی جائے اور ٹیکس نیٹ میں وسعت لانے کے لیے مؤثر حکمت عملی پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔
کسٹمز کلیئرنس کے عمل میں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے دورانیے میں ہونے والی خاطر خواہ کمی پر وزیراعظم نے ایف بی آر حکام کی پذیرائی کی اور ہدایت کی کہ درآمدات اور برآمدات کی کسٹمز کلیئرنس مزید کم سے کم وقت میں یقینی بنائی جائے۔
وزیراعظم نے سگریٹ سازی کی غیر قانونی فیکٹریوں کے خلاف مؤثر کارروائی پر ایف بی آر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہا اور اس سلسلے میں صوبائی حکومتوں کو ایف بی آر کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے سیلز ٹیکس ریفنڈ کی بروقت ادائیگی کو بھی یقینی بنانے پر زور دیا۔
اجلاس میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں تمباکو کے شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ایف بی آر اور محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی جانب سے متعدد فوکل پرسن تعینات کیے گئے ہیں جبکہ حالیہ مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں غیر قانونی سگریٹس کی بڑی مقدار قبضے میں لی گئی ہے۔
وزیراعظم کو ٹربیونلز اور مختلف اداروں میں ٹیکس سے متعلق زیر التواء مقدمات کی پیش رفت پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ،وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اطلاعات و نشریات عطا ءاللہ تارڑ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل آف پاکستان، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔











