راولپنڈی،13دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ 9 مئی کے واقعات محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم اور سوچی سمجھی سازش تھے جن کے ذریعے پاکستان کی سلامتی اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر اہتمام ایوب نیشنل پارک میں منعقدہ تین روزہ فوڈ فیسٹیول کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وفاقی وزیر نے راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ چیمبر نہ صرف کاروباری برادری کے مسائل کے حل کے لیے فعال ہے بلکہ عوامی، ثقافتی اور مثبت سرگرمیوں کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ حنیف عباسی نے کہا کہ ٹیکسوں میں کمی، انرجی بحران اور بجلی کے نرخوں جیسے اہم مسائل پر راولپنڈی چیمبر کا مؤثر اور متحرک کردار قابل ستائش ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چیمبر حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہ کر بزنس کمیونٹی کے تحفظ اور ملکی معیشت کی بہتری کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس فوڈ فیسٹیول کا مکمل کریڈٹ راولپنڈی چیمبر آف کامرس کو جاتا ہے جو ہر سال مثبت، تعمیری اور عوام دوست سرگرمیوں کا انعقاد کرتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ فوڈ فیسٹیول پاکستان کے سافٹ امیج کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور یہ سرگرمیاں نہ صرف ملک کے اندر بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے بارے میں مثبت پیغام دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سفارتکار فوڈ فیسٹیول میں شرکت کے بعد پاکستان کا مثبت تاثر اپنے اپنے ممالک میں لے کر جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو ہماری ثقافت، روایات، مہمان نوازی اور مثبت پہلوؤں سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیر ریلوے نے کہا کہ چیف آف دیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی مسلح افواج نے دس گنا بڑے دشمن کو تاریخی شکست دی جسے پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کی بدولت آج دنیا بھر میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگ رہے ہیں اور قوم اپنی افواج پر فخر کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے مضبوط ریاستی ادارے ایک بار پھر اپنی طاقت ثابت کر چکے ہیں اور تمام سہولت کار قانون کی گرفت میں آ رہے ہیں۔
حنیف عباسی نے ریلوے کے شعبے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم ورک کے ذریعے اس شعبے میں بھی بہتری لائی جا رہی ہے اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔











