اسلام آباد16 دسمبر ( اے پی پی): وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، رانا تنویر حسین نے رفحان مئز پروڈکٹس کمپنی لمیٹڈ اور دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز کے وفد کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (جی ایم او) اور نان جی ایم او مکئی سے متعلق پالیسی امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں زرعی پیداوار، برآمدات اور پاکستان کے زرعی شعبے میں ٹیکنالوجی کی تبدیلی پر خصوصی توجہ دی گئی۔
اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان اس وقت تقریباً 340 ملین امریکی ڈالر مالیت کی مکئی برآمد کر رہا ہے، جو بین الاقوامی منڈیوں میں ملک کی مضبوط پوزیشن کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم ماہرین نے آگاہ کیا کہ جی ایم او مکئی کی ٹیکنالوجی اختیار کرنے سے فی ایکڑ پیداوار میں 15 سے 20 من اضافہ ممکن ہے، جس سے زرعی پیداوار، کسانوں کی آمدن اور قومی غذائی تحفظ میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ بڑھتی ہوئی غذائی ضروریات کو پورا کرنے اور عالمی سطح پر مسابقت برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو اپنی زرعی ٹیکنالوجی کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بایوٹیکنالوجی اور جی ایم او فصلیں کم پیداوار، موسمیاتی دباؤ اور وسائل کی کمی جیسے مسائل کے حل کے لیے جدت پر مبنی مؤثر حل فراہم کرتی ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ جدت ہے اور ہمیں زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے جی ایم او جیسی جدید ٹیکنالوجیز کو اپنانا ہوگا۔ تاہم تمام فیصلے پاکستان کے قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک کے تحت کیے جائیں گے۔
سیکرٹری وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق (MNFSR) نے اجلاس کو بتایا کہ حکومت ایک جامع بایوٹیکنالوجی پالیسی متعارف کرانے پر کام کر رہی ہے، جو صرف مکئی تک محدود نہیں ہوگی بلکہ دیگر فصلوں کو بھی محیط کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے نفاذ کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں، برآمد کنندگان اور صارفین کے مفادات کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے گا۔
سیکرٹری نے مزید کہا کہ ہائبرڈ ٹیکنالوجی بھی زرعی جدت کی ایک شکل ہے اور اس ضمن میں چاول کی مثال دی۔ انہوں نے کہا کہ جب چاول میں ہائبرڈ ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی تو پاکستان کی چاول کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی کو ذمہ داری کے ساتھ اپنانے سے مثبت معاشی نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ جی ایم او فصلوں کو اپنانے کا عمل پاکستان کے بایوسےفٹی رولز 2005 کے تحت سختی سے کیا جائے گا، جو جینیاتی طور پر تبدیل شدہ جانداروں اور ان کی مصنوعات کے حوالے سے انسانی صحت اور ماحول کے تحفظ کے لیے خطرات کے تجزیے اور کنٹرول پر مشتمل ہیں۔ یہ قواعد جی ایم اوز کی درآمد، برآمد، تحقیق اور تجارتی استعمال کا احاطہ کرتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم بائیوسےفٹی رولز 2005 کی مکمل پاسداری کو یقینی بناتے ہوئے مرحلہ وار اور منظم انداز میں جی ایم او ٹیکنالوجی کی اجازت دینے پر غور کریں گے۔ ہمارا مقصد جدت، غذائی تحفظ، برآمدی مسابقت اور انسانی صحت و ماحول کے تحفظ کے درمیان توازن قائم رکھنا ہے۔











