بین الوزارتی صحت و آبادی کونسل اور یونیورسل ہیلتھ کوریج کنٹری پلیٹ فارم کا مشترکہ اجلاس

13

اسلام آباد، 16 دسمبر (اے پی پی ): وزارتِ قومی صحت خدمات، ضوابط و ہم آہنگی کے زیرِ اہتمام برطانوی ہائی کمیشن اور عالمی ادارۂ صحت کے تعاون سے بین الوزارتی صحت و آبادی کونسل اور یونیورسل ہیلتھ کوریج کنٹری پلیٹ فارم کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس کا مقصد صحت اور آبادی کے شعبے میں قومی صوبائی اور ترقیاتی شراکت داروں کی سرمایہ کاری میں ہم آہنگی پیدا کرنا اور شواہد پر مبنی اسٹریٹجک و پروگراماتی اصلاحات کو فروغ دینا تھا۔

اجلاس کی صدارت وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے کی جبکہ صوبائی اور وفاقی اکائیوں کے وزرائے صحت و آبادی اور سیکرٹریز، ترقیاتی شراکت داروں، اقوامِ متحدہ کے اداروں، ماہرینِ تعلیم، ریگولیٹری اداروں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسل ہیلتھ کوریج کا حصول حکومت کی قومی ترقیاتی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک نازک اور چیلنجنگ آبادیاتی مرحلے سے گزر رہا ہے جو قومی ترقی کے ہر شعبے خصوصاً صحت اور آبادی کے شعبے کو متاثر کر رہا ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ آئندہ قومی صحت و آبادی پالیسی 2035-2026 ایک اسٹریٹجک رہنما دستاویز ہو گی جو صحت کو انسانی سرمائے اور معاشی استحکام میں بنیادی سرمایہ کاری کے طور پر پیش کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی عملی، شواہد پر مبنی اور عملیت پسند روڈ میپ فراہم کرتی ہے جو ایک صحت مند، بااختیار اور مستحکم معاشرے کی تشکیل کی راہ ہموار کرے گی۔ انہوں نے پالیسی اہداف کے مؤثر نفاذ کے لیے سیاسی عزم اور مشترکہ کاوشوں پر زور دیا۔

اس موقع پر وزیرِ مملکت برائے قومی صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری صحت کے تحفظ کے لیے اسٹریٹجک سرمایہ کاری اور خود انحصاری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت کا میچورٹی لیول تھری حاصل کرنا ناگزیر ہے تاکہ ریگولیٹری نظام عالمی معیار کے مطابق ہو سکے اور مقامی ویکسین کو بین الاقوامی اعتماد اور مارکیٹ تک رسائی حاصل ہو۔ انہوں نے صوبائی اتفاقِ رائے سے قومی ہیلتھ انشورنس ایکٹ کی تیاری کو بھی ضروری قرار دیا تاکہ صحت کی سہولیات تک منصفانہ رسائی اور نظامِ صحت کی طویل المدتی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔

پنجاب کے وزیرِ صحت و آبادی خواجہ عمران نذیر نے آبادیاتی عوامل اور پائیدار ترقی کے درمیان گہرے تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آبادی میں اضافہ محض ایک عددی مسئلہ نہیں بلکہ صحت، تعلیم اور معاشی خوشحالی کا اہم تعین کنندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت اور آبادی کی ترجیحات پر توجہ دے کر ہی منصفانہ اور پائیدار ترقی حاصل کی جا سکتی ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمٰن نے کہا کہ صحت ایک خوشحال اور پُرامن معاشرے کی بنیاد ہے۔ انہوں نے بنیادی صحت کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے، دور دراز علاقوں میں ڈیجیٹل سروسز کے فروغ اور صحت کے افرادی قوت میں سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قومی صحت و آبادی پالیسی کے وسیع تر وژن کے تحت باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے گا، وسائل میں ہم آہنگی پیدا کی جائے گی اور اصلاحاتی عمل کو تیز کیا جائے گا تاکہ ہر شہری کو مالی مشکلات کے بغیر معیاری اور قابلِ برداشت صحت کی سہولیات میسر آ سکیں۔