پاکستان اور تاجکستان کے درمیان صدیوں پر محیط قدیم، گہرے تاریخی اور ثقافتی روابط ہیں، صدر مملکت آصف علی زرداری کا پی این سی اے میں ہفتہ ثقافت تاجکستان کی افتتاحی تقریب سے خطاب

38

اسلام آباد،18دسمبر(اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے  کہا  ہےکہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان صدیوں پر محیط قدیم، گہرے تاریخی اور ثقافتی روابط ہیں جو قدیم شاہراہ ریشم اور فارسی زبان کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں جنہیں دونوں برادر ممالک قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔جمعرات کو پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس (پی این سی اے) میں ہفتہ ثقافت تاجکستان کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر  آصف علی زرداری نے تاجکستان کی وزیر ثقافت ستوریون متلوباخون امون زودا کی قیادت میں آنے والے تاجک ثقافتی وفد کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر صدر کے ہمراہ تاجک وزیر ثقافت اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی موجود تھے۔صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ تاجک وفد کا یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے درمیان مضبوط دوستی اور تعاون کے رشتوں کا مظہر ہے۔انہوں نے کہا کہ صدیوں تک ہمارے خطے شاہراہِ ریشم کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک رہے جس نے جنوبی ایشیا کو وسطی ایشیا سے جوڑا، ان راستوں سے نہ صرف تجارت بلکہ خیالات، زبانیں، شاعری اور روایات بھی منتقل ہوئیں، علماء، شعراء اور سیاح اس پورے خطے میں آزادانہ آمدورفت کرتے رہے جس سے ایک مشترکہ ثقافتی ورثہ تشکیل پایا جو آج بھی ہماری قوموں کو قریب لاتا ہے۔ صدر مملکت نے اس مشترکہ تاریخ میں فارسی زبان کے خصوصی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کئی صدیوں تک فارسی اس خطے، موجودہ پاکستان میں علم، شاعری اور انتظامیہ کی زبان رہی۔صدر مملکت نے کہا کہ تاجکستان اس عظیم ورثے کا فخر سے محافظ ہے، فارسی کے عظیم شعراء اور مفکرین ہمارے دونوں ممالک میں قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں جو اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ثقافت سرحدوں سے بالاتر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ثقافتی سفارت کاری کو بڑی اہمیت دیتا ہے اور وہ اس بات پر خوش ہیں کہ ایسے شاندار پروگرام کے ذریعے ثقافتی تبادلے عملی شکل اختیار کر رہے ہیں۔صدر مملکت نے  کہا کہ مجھے یقین ہے کہ اسلام آباد اور لاہور میں تاجک وفد کی جانب سے منعقد کی جانے والی ثقافتی سرگرمیوں کو پاکستانی عوام کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملے گی، تاجک  وزیر ثقافت کو چاروں صوبوں کا دورہ کرنے اور ہفتہ ثقافت تاجکستان کی اختتامی تقریب کی میزبانی کی دعوت دیتا ہوں۔صدر مملکت نے کہا کہ ای سی او اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) جیسی علاقائی تنظیموں کے رکن ہونے کے ناطے پاکستان اور تاجکستان علاقائی تعاون، روابط اور ہم آہنگی کے وسیع تر وژن میں بھی شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی دوستی مشترکہ اقدار اور مشترکہ مستقبل پر مبنی ہے۔اس سے قبل تاجک وزیر ثقافت ستوریون متلوباخون امون زودا نے پاکستان میں ہفتہ ثقافت تاجکستان کے افتتاح پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنے لیے اعزاز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان-تاجکستان دوطرفہ تعلقات قدیم، روحانی، لسانی، تاریخی اور ثقافتی ہیں جو سیاسی، معاشی، سلامتی اور ثقافتی شعبوں میں وسعت اختیار کر رہے ہیں اور سٹریٹجک شراکت داری کی مضبوط علامت ہیں۔انہوں نے کہا کہ موہنجو داڑو، ٹیکسلا کے آثار قدیمہ، بادشاہی مسجد اور دیگر تاریخی مقامات پاکستان کے عظیم تہذیبی ورثے کی علامت اور عالمی تہذیب کے حقیقی آثار ہیں۔تاجک وزیر ثقافت نے کہا کہ تاجکستان دونوں اقوام کے درمیان لسانی ہم آہنگی کو بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، کیونکہ ہمارے عوام فارسی-تاجک شاعری کے مشترکہ ورثے کے امین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے شمالی علاقوں خصوصاً خیبرپختونخوا، بلوچستان اور دیگر علاقوں میں مقیم تاجک باشندے مشترکہ ثقافتی ہم آہنگی کی تاریخ کی نمائندگی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم سرحدوں کے اعتبار سے ہمسایہ نہیں بلکہ روحانی شراکت دار ہیں، آج منعقد ہونے والا ہفتہ ثقافت تاجکستان امن، تعاون اور ثقافتی مکالمے کا پیغام ہے۔ وفاقی وزیر قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے اپنے ابتدائی کلمات میں صدر مملکت کو ریاستی امور اور سیاست میں مسائل کے حل کے لیے خدمات پر خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے اعلیٰ سطحی تاجک وفد کی خصوصی آمد کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان صدیوں پر محیط گہرے ثقافتی روابط اور قربت موجود ہے جو ہماری طویل المدتی شراکت داری کی بنیاد ہیں۔تقریب کے دوران تاجک وزیر ثقافت نے صدر مملکت کو تاجک زر دوزی کوٹ اور تاجک ٹوپی کا تحفہ پیش کیا۔صدر آصف علی زرداری نے بھی فارسی اشعار پر مشتمل ایک پورٹریٹ بطور تحفہ پیش کیا جسے تاجک وزیر نے تشکر کے ساتھ قبول کیا۔تقریب کے اختتام پر تاجک موسیقی کے ساتھ فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر کرنائے، غجک، تنبور، دوئیرا، طبلک، تاجک نَے (بانسری) اور دوتار سمیت روایتی ساز بجائے گئے۔