بغداد،21دسمبر (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری سے عراق کے نگراں وزیرِاعظم محمد شیاع السودانی نے گورنمنٹ پیلس میں ملاقات کی ہے، ملاقات میں دوطرفہ تعاون اور باہمی دلچسپی کے ترجیحی شعبوں میں عملی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
فریقین نے دوطرفہ روابط کو آگے بڑھانے کے لیے اعلیٰ سطح کے باقاعدہ تبادلوں کی اہمیت پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے معاشی و اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاقِ کیا ۔ صدرِ مملکت نے نشاندہی کی کہ موجودہ تجارتی حجم صلاحیت کے مقابلے میں بہت کم ہے اور ارادوں کو عملی نتائج میں بدلنے کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے ۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت و غذائی تحفظ، تعمیرات، ادویات اور فارماسیوٹیکلز سمیت ترجیحی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے تجارت، کاروباری روابط اور زائرین کی آمد و رفت میں سہولت کے لیے براہِ راست بینکاری چینلز کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے بغداد میں اہم تجارتی اور صحت سے متعلق نمائشوں میں پاکستان کی شرکت کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں کاروبار سے کاروبار روابط کے پائیدار فروغ کی سمت ایک قدم قرار دیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے چیمبرز آف کامرس اور نجی شعبے کے درمیان باقاعدہ تبادلوں اور ورچوئل رابطوں کے ذریعے قریبی ہم آہنگی کی حوصلہ افزائی کی۔انہوں نے دوطرفہ دفاعی تعلقات میں مسلسل پیش رفت، جاری تربیتی پروگراموں کے مکمل ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا۔
انہوں نے عراق کی ضروریات اور بدلتی ہوئی سلامتی کی صورتحال کے مطابق دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کی آمادگی کا اعادہ کیا۔انہوں نے عراق کی تعمیرِ نو میں پاکستان کی معاونت کی صلاحیت،ماہر افرادی قوت، طبی پیشہ ورانہ اور مالیاتی خدمات و ڈیجیٹل گورننس میں تکنیکی مہارت کو بھی اجاگر کیا اور افرادی قوت کی فراہمی کے موجودہ فریم ورک کو منظم اور فلاحی تعیناتی کے لیے اہم قرار دیا۔عراق آنے والے پاکستانی زائرین سے متعلق امور پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
آصف علی زرداری نے زائرین مینجمنٹ سے متعلق مفاہمتی یادداشت کی جلد تکمیل، امیگریشن مقامات پر بہتر سہولت، ہنگامی سفر کے معاملات میں لچک اور حقیقی زائرین کو درپیش مشکلات کے حل پر زور دیا۔ فریقین نے ادارہ جاتی چینلز کے ذریعے رابطہ برقرار رکھنے اور باہمی تعاون کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا جو دونوں ممالک کے لیے واضح فوائد فراہم کرے۔











