اسلام آباد۔7جنوری (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہائوسنگ اینڈ ورکس نے پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پاک پی ڈبلیو ڈی) کے ملازمین کو گزشتہ چھ ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور ایڈجسٹمنٹ میں تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری ادائیگی اور واضح پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔
کمیٹی کا اجلاس بدھ کے روز پارلیمنٹ لاجز اسلام آباد میں منعقد ہوا جس کی صدارت چیئرمین کمیٹی سینیٹر ناصر محمود نے کی۔ اجلاس میں سینیٹر جان محمد، سینیٹر خالدہ عطیب اور سینیٹر ہدایت اللہ خان نے شرکت کی۔
اجلاس میں کوئٹہ (21 نومبر 2025ء) اور لاہور (18 دسمبر 2025ء) میں ہونے والے سابقہ اجلاسوں میں دی گئی ہدایات پر عملدرآمد رپورٹ کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران پاک پی ڈبلیو ڈی کے مینٹیننس سٹاف کے ملازمین کو یکم جولائی 2025ء سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ ان ملازمین کو فوری طور پر بقایاجات ادا کیے جائیں اور انہیں اسی تاریخ سے ایڈجسٹ کیا جائے جس تاریخ سے بلوچستان میں دیگر پاک پی ڈبلیو ڈی ملازمین کو مختلف محکموں میں ایڈجسٹ کیا گیا تھا۔کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ مختلف وفاقی اداروں میں ایڈجسٹ کیے گئے ملازمین کو بلا تعطل تنخواہیں ادا کی جا رہی ہیں۔ ان میں 1,493 ملازمین سی ڈی اے، 970 اسٹیٹ آفس، 95 وزارت دفاع، ایک وفاقی شرعی عدالت، 60 وزارت خارجہ، 116 ایف بی آر، 35 نیب اور 90 کنٹرولر جنرل آف اکائونٹس میں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر تقریباً 2,860 ملازمین کو باقاعدگی سے تنخواہیں دی جا رہی ہیں جبکہ 173 ملازمین کے لیے موجودہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری زیر غور ہے اور 83 آئی بی ملازمین کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام مذکورہ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کی تصدیق کر کے ایک جامع، واضح اور مستند رپورٹ کمیٹی کے سامنے پیش کی جائے۔اجلاس میں سینٹرل سول ڈویژن پاک پی ڈبلیو ڈی کے 15 درجۂ چہارم کے ملازمین کا معاملہ بھی زیر بحث آیا جنہیں اے جی پی آر اور ٹی آفس لاہور منتقل تو کیا گیا مگر گزشتہ چھ ماہ سے نہ تو ایڈجسٹ کیا گیا اور نہ ہی تنخواہیں ادا کی گئیں۔ کمیٹی نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری حل اور واجبات کی ادائیگی کی ہدایت کر دی۔
وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس کے حکام نے کمیٹی کو پاک پی ڈبلیو ڈی ملازمین کی ایڈجسٹمنٹ،تنخواہوں، پنشن، گریجویٹی اور دیگر واجبات کی ادائیگی سے متعلق موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس میں کانسٹینشیا اسٹیٹ مری کے حصول، ترقی اور استعمال سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) مری نے زمین کی میوٹیشن کے لیے ڈپٹی کمشنر کو باضابطہ درخواست دینے کی ہدایت کی ہے، چونکہ اسٹیٹ آفس کو زمین کی صرف واچ اینڈ وارڈ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، اس لیے معاملہ وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس کو بھجوا دیا گیا ہے تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ میوٹیشن وفاقی حکومت یا وزارت کے نام کی جائے۔مزید بتایا گیا کہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) نے سول کورٹ راولپنڈی کو خط لکھ کر زیر التواء مقدمات کو پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی آرڈیننس کے تحت ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی کو منتقل کرنے کی درخواست کی ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے بروقت فیصلوں، شفافیت اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو جلد از جلد پیش رفت رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کی۔











