اسلام آباد۔12جنوری (اے پی پی):پاکستان کی حال ہی میں قائم ہونے والی وفاقی آئینی عدالت پاکستان(فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ آف پاکستان)کا پیر کے روز کانسٹی ٹیوشن ایونیو پر واقع اس کے مستقل دفتر میں سادہ مگر باوقار تقریب میں باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا جو ملک کی آئینی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔
وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان نے عدالت کی افتتاحی تختی کی نقاب کشائی کی۔ اس موقع پر عدالت کے تمام معزز ججزجسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عامر فاروق، جسٹس علی باقر نجفی، جسٹس محمد کریم آغا خان، جسٹس روزی خان باریچ اور جسٹس ارشد حسین شاہ موجود تھے۔وفاقی آئینی عدالت پاکستان کی افتتاحی تقریب میں وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، رجسٹرار وفاقی آئینی عدالت محمد حفیظ اللہ خان، قانونی برادری کے نمائندگان، میڈیااور متعلقہ اداروں کے افسران نے بھی شرکت کی۔
وفاقی آئینی عدالت کانسٹی ٹیوشن ایونیو پر ایک نمایاں عمارت میں قائم کی گئی ہے جو سپریم کورٹ آف پاکستان کے بالمقابل واقع ہے۔ یہ عمارت اس سے قبل وفاقی شرعی عدالت کے زیرِ استعمال تھی جو اب کانسٹی ٹیوشن ایونیو ہی پر ایک دوسری جگہ منتقل ہو چکی ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت پاکستان کا قیام 13 نومبر 2025 کو ستائیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عمل میں آیا تھاجبکہ جسٹس امین الدین خان نے 14 نومبر 2025 کو عدالت کے پہلے چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔
وفاقی آئینی عدالت اس سے قبل بھی فعال تھی اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں مختلف آئینی مقدمات کی سماعت کر رہی تھی تاہم اب مستقل عمارت میں منتقلی کے بعد عدالت نے باقاعدہ طور پر اپنے نئے مقام سے کام کا آغاز کر دیا ہےجو پاکستان کی آئینی عدالتی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔نئی عمارت میں منتقلی کے پہلے دن وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سپرٹیکس کیس کی سماعت کا تسلسل برقرار رکھا جوکہ قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں وفاقی آئینی عدالت کے لیے مختص کورٹ روم میں جاری رہی تاہم پیر کو سپر ٹیکس کیس کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کی مستقل عمارت میں ہوئی ۔











