جموں و کشمیر کے تنازع کے حوالے سے بھارتی مندوب کے ریمارکس کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ ایک فرسودہ بیانیہ ہیں،آصف خان

8

اقوامِ متحدہ، 16 جنوری ( اے پی پی): اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارتی مندوب کے ریمارکس پر پاکستان مشن کے وزیر آصف خان نے کہا کہ جموں و کشمیر کے تنازع کے حوالے سے بھارتی مندوب کی جانب سے دیے گئے ناقابلِ قبول اور بے بنیاد دعوے اور الزامات کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ ایک فرسودہ بیانیہ ہیں جن کا مقصد مسلمہ حقائق اور قانونی حقائق کو دھندلانا ہے۔

آصف خان نے کہا  نو آبادیاتی ممالک اور عوام کو آزادی دینے سے متعلق اعلامیہ واضح طور پر اس امر کی توثیق کرتا ہے کہ تمام اقوام کو حقِ خود ارادیت حاصل ہے۔ اس تناظر میں بھارت گزشتہ کئی دہائیوں سے جموں و کشمیر کے عوام کو اس بنیادی حق سے محروم رکھے ہوئے ہے، جس کے ساتھ منظم اور مسلسل جبر بھی روا رکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا “اٹوٹ انگ” ہے اور نہ ہی کبھی بین الاقوامی قانون کے تحت ایسا رہا ہے۔ سلامتی کونسل اور اقوامِ متحدہ نے متعدد قراردادوں کے ذریعے جموں و کشمیر کو ایک متنازع علاقہ تسلیم کیا ہے اور واضح طور پر یہ طے کیا ہے کہ ریاستِ جموں و کشمیر کے حتمی مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام کی آزادانہ اور منصفانہ رائے کے مطابق کیا جائے گا۔

 جو اقوامِ متحدہ کی سرپرستی میں منعقد ہونے والے آزاد اور غیر جانبدار استصوابِ رائے کے ذریعے طے ہوگا۔ یہی مؤقف اقوامِ متحدہ کے سرکاری نقشوں میں بھی منعکس ہے۔ بھارت نے ان فیصلوں کو قبول کیا تھا اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 25 کے تحت ان پر عمل درآمد کا پابند ہے۔

انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد سے بھارت نے ایک ایسے راستے کا انتخاب کیا ہے جس کا مقصد مقبوضہ علاقے کی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کر کے اسے ایک مسلم اکثریتی ریاست سے ہندو اکثریتی خطے میں بدلنا ہے۔ یہ اقدامات چوتھے جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی قانون کی صریح اور کھلی خلاف ورزی ہیں۔

آصف خان نے مزید کہا کہ بھارتی مندوب اس ایوان میں حقائق کے منافی بیانات دینے سے قبل جموں و کشمیر سے متعلق اقوامِ متحدہ کے سرکاری نقشوں اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کا بغور مطالعہ کر لیں۔