اسلام آباد ، 19 جنوری (اے پی پی): چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت وفاقی دارالحکومت میں آتشزدگی کے واقعات سے نمٹنے اور حساس عمارات کیلئے حفاظتی اقدامات حوالے سے اجلاس منعقد ہوا ۔
اجلاس میں ممبر فنانس، ممبر پلاننگ و ڈیزائن، ڈی سی اسلام آباد، ڈی جی بلڈنگ کنٹرول اینڈ ہاؤسنگ، ڈی جی کیپیٹل ایمرجنسی سروسز اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں آتشزدگی سے بچاؤ کے موجودہ انتظامات، حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے اور پرائیوٹ و پبلک عمارات کے حوالے سے جامع حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ دارالحکومت اسلام آباد میں تمام بلند پرائیویٹ و پبلک عمارات کا باقاعدہ سروے کرکے مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا جائے، ہر صورت یقینی بنایا جائے کہ ہائی رائز عمارات میں آگ سے بچاؤ کیلئے تمام ضروری اقدامات اور ایمرجنسی ایگزٹ کے راستے لازمی موجود ہوں، اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ کسی بھی نئی عمارت کی تعمیر سے قبل اس کی فائر سیفٹی پلان کی منظور سی ڈی اے سے لازمی ہے، نئی پرائیویٹ و پبلک عمارتوں کیلئے باقاعدہ پاکستان انجینئرنگ کونسل کے کوڈز کے مطابق فائر سرٹیفیکیشن لازمی ہے، فائر فائیٹنگ کے جدید طریقوں کو اپناتے ہوئے نئی عمارات میں ڈرونز کو فائر فائٹنگ آپریشنز میں استعمال کیا جائے گا۔
محمد علی رندھاوا نے کہا کہ حساس اور پرانی عمارات کا فائر سیفٹی سے متعلق حفاظتی ضوابط پر مکمل عملدرآمد کیلئے واضح میکانزم وضع کیا جائے، فائر سیفٹی آڈٹ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے اور اس پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے، اسلام آباد کیپیٹل ایمرجنسی سروسز ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ملکر ہائی رائز عمارتوں میں باقاعدہ سمیولیشن مشقوں کا اہتمام کرے، انہوں نے کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کیلئے افرادی وسائل کی ضروریات کو فوراً پورا کرنے کی ہدایت بھی کی۔
چیئرمین سی ڈی اے نے مزید کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں ہر طرح کی ایمرجنسی و آفات سے نمٹنے کیلئے ایک جامع قانونی و عملی فریم ورک پر کام جاری ہے،شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ جلاس میں جدید ایمرجنسی آپریشن سینٹر کو ڈیجیٹل بنیادوں پر فعال بنانے، شہر کے مختلف اہم مقامات پر نئی ریسکیو اسٹیشنز بنانے کا جائزہ لیا گیا ۔











