اسلام آباد، 21 جنوری (اے پی پی): وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ مائیکرو، سمال اور میڈیم انٹرپرائزز (ایس ایم ایز) “میڈ اِن پاکستان ایس ایم ای کلسٹر شوکیس ایکسپو 2026” 24 سے 26 جنوری 2026 تک ایکسپو سینٹر لاہور میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے اس ایونٹ کو پاکستان کے چھوٹے کاروباروں کے لیے قومی پلیٹ فارم قرار دیا، جہاں 30 سے زائد ایس ایم ای کلسٹر پویلینز اور 174 نمائندگان شرکت کریں گے۔ خواتین کاروباریوں اور مائیکرو بزنسز کے لیے خصوصی پویلینز بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔
بدھ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے حکومت کی معاشی سمت پر روشنی ڈالی، جس میں مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز (ایس ایم ایز) کی ترقی کو خصوصی اہمیت دی گئی۔انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کی معیشت استحکام اور پائیدار ترقی کی درست سمت میں گامزن ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایس ایم ایز پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور روزگار کی فراہمی، پیداوار اور برآمدات میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔
وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت نے ایس ایم ایز کو قومی ترقی کے مرکز میں رکھا ہے اور ترجیح یہ ہے کہ معاشی پالیسیاں ملک کے ہر ضلع اور ہر چھوٹے کاروبار تک پہنچیں۔ ملک بھر میں ایس ایم ای کلسٹرز کے ساتھ مشاورت مکمل کی جا چکی ہے اور تمام صوبوں اور علاقوں کی نمائندگی کے ساتھ ایک جامع ایس ایم ای پالیسی تشکیل دی گئی ہے۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ خواتین کاروباری حکومت کی معاشی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہیں۔ نیشنل ویمن انٹرپرینیورشپ پالیسی پر عملی کام شروع ہو چکا ہے، جس کے تحت خواتین کی قیادت میں کاروباروں کے لیے سرمایہ، تربیت اور مارکیٹ تک رسائی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کا معاشی بااختیار ہونا پاکستان کی معاشی مضبوطی کی ضمانت ہے۔
ہارون اختر خان نے مزید بتایا کہ بینک اور مالیاتی ادارے ایکسپو میں شرکت کریں گے تاکہ ایس ایم ایز کو براہِ راست مالی رسائی فراہم کی جا سکے۔ آذربائیجان، کینیا اور ملائیشیا سے بین الاقوامی نمائندگان کی شرکت سے پاکستانی ایس ایم ایز کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایس ایم ای ایکسپو کا بنیادی مقصد ایس ایم ایز کو بینکوں، خریداروں اور سرمایہ کاروں سے جوڑنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ برآمدات پر مبنی معیشت کے حکومتی ہدف کو تقویت دینا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایکسپو وزیرِ اعظم کے معاشی وژن کا عملی مظہر ہے اور محض ایک نمائش نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی صلاحیت کا بھرپور اظہار ہے۔ ایکسپو کے دوران عوام معیاری پاکستانی مصنوعات خرید سکیں گے اور کاروباری آرڈرز بک کروا سکیں گے، جبکہ تمام صوبے اور خطے ایک ہی چھت تلے اپنی معاشی صلاحیت پیش کریں گے۔











