اسلام آباد، 27 جنوری (اے پی پی):اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قانون کی حکمرانی سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران بھارتی نمائندے کے ریمارکس کے جواب میں پاکستان کے فرسٹ سیکرٹری ذوالفقار علی نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے بھارت کے الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ایسے الزامات کے ذریعے جموں و کشمیر پر اپنے غیر قانونی قبضے سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے، حالانکہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ایک متنازعہ علاقہ ہے۔
پاکستانی نمائندے نے واضح کیا کہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی بھارت کا معمول ہے، جبکہ قانون اور انصاف پر اس کے دعوے کھوکھلے ہیں۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کی یک طرفہ معطلی کو آبی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر اشتعال انگیزی کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ذوالفقار علی نے بھارت میں اقلیتوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں ہونے والے تشدد کی بھی نشاندہی کی اور زور دیا کہ بھارت جارحانہ طرزِ عمل ترک کر کے کشمیر سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ کرے اور مکالمے و سفارت کاری کا راستہ اپنائے تاکہ خطے میں امن و استحکام ممکن ہو سکے۔











