اسلام آباد، 28 جنوری (اے پی پی): وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سلطانہ فاؤنڈیشن ایک عرصے سے تعلیم اور صحت کے شعبے میں خدمات انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نرسنگ کا شعبہ ہیلتھ کیئر میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کا مریض سے رابطہ محدود وقت کا ہوتا ہے جبکہ نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف ہمہ وقت مریضوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ مریضوں کے ساتھ خوش اسلوبی سے پیش آنا چاہیے کیونکہ تکلیف کی حالت میں انسان ہسپتالوں کا رخ کرتا ہے۔
سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہیلتھ کیئر کا مقصد انسان کو مریض بننے سے بچانا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک میں سیوریج کی ٹریٹمنٹ کا کوئی مربوط نظام موجود نہیں اور ماہرین کے مطابق 70 فیصد بیماریاں آلودہ پانی سے پھیلتی ہیں۔ اگر پینے کا صاف پانی مہیا کر دیا جائے تو بیماریوں میں 70 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبادی میں بے ہنگم اضافے سے ملک ترقی نہیں کر سکتا اور ہمیں اپنے وسائل کے مطابق آبادی کو کنٹرول کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال ملک میں 61 لاکھ بچے پیدا ہو رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے والدین پر زور دیا کہ بچوں کو تیرہ بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسینیشن ضرور کروائیں کیونکہ حکومت ان بیماریوں سے بچاؤ کے لیے مفت ویکسین فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویکسینیشن سے متعلق عوام میں موجود خدشات کو دور کرنا ہوگا۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ پاکستان دنیا کے دو ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، گزشتہ سال ملک میں پولیو کے 30 کیسز رپورٹ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں لوگوں کو آگاہ کرنا ہے اور انہیں قائل کرنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو سمیت تمام قابلِ تدارک بیماریوں سے محفوظ بنائیں۔











