روانڈا کافی فیسٹیول کے موقع پر پاکستان اور روانڈا کے وزرائے تجارت کے درمیان سائیڈ لائن ملاقات ہوئی، جس میں دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور براہِ راست سپلائی چین کے قیام پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے اسلام آباد میں روانڈا کافی فیسٹیول کا افتتاح کرتے ہوئے اس ایونٹ کو پاکستان اور افریقہ کے درمیان تجارتی روابط مضبوط بنانے کا ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مشرقی افریقہ کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے، جس میں زرعی تعاون کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
ملاقات کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ روانڈا کی کافی، چائے اور دیگر زرعی مصنوعات کو پاکستانی منڈی میں متعارف کرایا جائے گا، جبکہ پاکستان روانڈا کی کافی کے لیے وسطی ایشیا اور چین تک ممکنہ تجارتی گیٹ وے کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
وفاقی وزیرِ تجارت نے کہا کہ پاکستان روانڈا سے کافی اور چائے کی درآمد بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے، جبکہ پاکستان اعلیٰ معیار کے چاول، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل اور انجینئرنگ مصنوعات روانڈا کو برآمد کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست امپورٹ ایکسپورٹ سپلائی لائن قائم کرنے اور براہِ راست بحری رابطے کے ذریعے شپنگ ٹائم اور لاگت کم کرنے پر بھی زور دیا۔
روانڈا کے وزیرِ تجارت نے پاکستانی چاول کو دنیا کے بہترین چاولوں میں شمار کرتے ہوئے اس کے معیار کا اعتراف کیا اور کہا کہ روانڈا پاکستانی کاروباری برادری کے لیے سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک کھلا اور سازگار ملک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روانڈا افریقہ کے 1.4 ارب صارفین پر مشتمل منڈی تک رسائی کا ایک اہم تجارتی مرکز ہے، جہاں مقامی پیداوار کے بعد افریقی منڈیوں تک بلا رکاوٹ برآمدات ممکن ہیں۔
دونوں وزرائے تجارت نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے تجارتی مفاہمتی یادداشت (ٹریڈ ایم او یو) کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نجی شعبے کے روابط، بزنس ٹو بزنس تعاون اور مشترکہ منصوبوں کے فروغ پر بھی زور دیا گیا۔
جام کمال خان نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران 200 سے زائد روانڈا کے تاجروں کا پاکستان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے بزنس ٹو بزنس روابط کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ روانڈا کافی فیسٹیول ثقافتی اور تجارتی شراکت داری کو نئی جہت دے گا اور پاکستان-افریقہ تجارتی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔











