قانونی تعلیم کے مستقبل میں جدت اور ٹیکنالوجی ناگزیر ہے، بیرسٹر عقیل ملک

9

 

اسلام آباد، 03فروری (اے پی پی ): ریسرچ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لا کی منعقدہ قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ پاکستان میں قانونی تعلیم اور پیشہ ورانہ عمل تیزی سے ارتقا پذیر ہے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے جدت، معیار اور ٹیکنالوجی کا اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹولز نے قانونی مسودہ سازی، معاہدات اور دیگر دستاویزات کے طریقۂ کار کو بدل دیا ہے، جس کے باعث وکلاء کے لیے مسلسل پیشہ ورانہ تربیت اور قانونی تعلیم انتہائی اہم ہو گئی ہے۔

بیرسٹر عقیل ملک نے وزارتِ قانون و انصاف کے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کوڈ، ای اپیلز، ای کیس رجسٹریشن اور ڈیجیٹل ریٹریول سسٹم کے ذریعے قوانین اور سرکاری دستاویزات تک آسان رسائی فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ نوجوان وکلاء کو انٹرن شپس کے ذریعے عملی تجربہ بھی دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بار کونسلز، ڈائریکٹوریٹ آف لیگل ایجوکیشن اور وزارتِ قانون کے باہمی تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قانونی پیشے میں اخلاقیات، عدالتی آداب اور شمولیتی ماحول کو فروغ دینا انصاف کے نظام پر اعتماد کے لیے ضروری ہے۔