انسدادِ پولیو مہم، وزیر اعلی ٰبلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر باقاعدہ پولیو مہم کاافتتاح کیا

8

کوئٹہ، 03 فروری (اے پی پی):وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے بھر میں انسدادِ پولیو مہم کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔منگل کے روزوزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر باقاعدہ پولیو مہم کاافتتاح کیا۔اس موقع پر ارکان اسمبلی انجینئر زمرک خان اچکزئی،برکت علی رند، عبیداللہ گورگیج، سنجے کمار، سیکرٹری صحت مجیب الرحمن پانیزئی، ایمرجنسی آپریشن سینٹر بلوچستان کے کوارڈینیٹر انعام الحق و دیگر  بھی موجود تھے۔وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی نے کہاکہ اس قومی مہم میں مجموعی طور پر 11 ہزار ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن میں 822 فکسڈ اور 474 ٹرانزٹ ٹیمیں بھی شامل ہیں جو صوبے کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دیں گی تاکہ ہر بچے تک رسائی یقینی بنائی جا سکے۔میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ گزشتہ 15 ماہ کے دوران بلوچستان میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا جو انسدادِ پولیو اقدامات کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے 23 اضلاع میں سے صرف دو علاقوں کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا ہے  جبکہ صوبے کے 93 فیصد علاقوں کے ماحولیات سے پولیو وائرس کا خاتمہ ہو چکا ہے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ سال 2025 کے دوران بلوچستان میں پولیو وائرس کے خاتمے کے حوالے سے نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئیں جبکہ موجودہ سال ماحولیاتی سطح پر پولیو کے مکمل خاتمے کیلئے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سالِ رفتہ کی طرح 2026 میں بھی منظم اور موثر مہم کے ذریعے ہر بچے تک رسائی یقینی بنائی جائے گی۔میر سرفراز بگٹی نے خبردار کیا کہ ننھے بچے کسی بھی وقت پولیو وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں اور انسدادِ پولیو مہم اس لاعلاج بیماری کی روک تھام کیلئے ناگزیر ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو لازمی پولیو کے قطرے پلوائیں کیونکہ   پولیو عمر بھر کی معذوری کا باعث بن سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بچوں کی صحت کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اگر ایک بچہ بھی پولیو کے قطروں سے محروم رہ گیا تو تمام بچے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔