اسلام آباد،13 فروری(اے پی پی ): وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں “اکیڈمیا سے صنعت، تحقیق سے حقیقت” کے موضوع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انجینئرنگ پر مبنی صنعتی تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی اب آپشن نہیں بلکہ معیشت کی بنیاد بن چکی ہے، اور پاکستان کو مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس اور آٹومیشن کے عالمی رجحانات سے ہم آہنگ ہونا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اکیڈمیا اور صنعت کے درمیان مضبوط روابط وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ تحقیق کو عملی پیداوار اور معاشی ترقی میں بدلا جا سکے۔
وفاقی وزیرِ تجارت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید انجینئرنگ اور تکنیکی مہارتوں میں سرمایہ کاری سے پاکستان کی عالمی مسابقت میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معدنی وسائل، خصوصاً کاپر اور ریئر ارتھ عناصر کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مؤثر انداز میں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔
جام کمال خان نے کہا کہ طلبہ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور ڈیجیٹل معیشت جیسے ابھرتے شعبوں میں مہارت حاصل کریں۔ انہوں نے حکومت کے اسٹارٹ اپس، انوویشن ایکوسسٹم اور انڈسٹری–اکیڈمیا تعاون کے فروغ کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
اس موقع پر سینیٹر نعمان وزیر نے ہنر مندی، تحقیق اور پالیسی کے تسلسل کو معاشی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
تقریب کے اختتام پر مہمانانِ خصوصی کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں۔











