اقوامِ متحدہ، 20 فروری (اے پی پی ): پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں کہا ہے کہ سوڈان کے تنازعے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور بامعنی مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد قابلِ عمل راستہ ہیں۔ پاکستان نے عبوری سوڈانی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے امن منصوبے کی حمایت کا اظہار کیا اور 12 فروری کو افریقی یونین کی امن و سلامتی کونسل کے اعلامیے کا خیرمقدم کیا۔
سوڈان کی صورتحال پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون، نے سیاسی اقدامات میں ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ افریقی یونین، اقوامِ متحدہ (سیکریٹری جنرل کے ذاتی ایلچی کے ذریعے)، بین الحکومتی ترقیاتی اتھارٹی (IGAD)، کوئنٹٹ اور دیگر علاقائی شراکت داروں کی کوششیں ایک دوسرے کو تقویت دینے والی ہونی چاہئیں تاکہ ایک انسانی بنیادوں پر جنگ بندی حاصل کی جا سکے جو مستقل سیزفائر کی جانب پیش رفت کا ذریعہ بنے۔
انہوں نے کہا کہ سوڈان میں بحران “تشویشناک رفتار” سے بگڑ رہا ہے اور الفاشر میں المیے کے بعد کُردفان تک جھڑپوں کے پھیلاؤ کا حوالہ دیا۔
انہوں نے دارفور میں ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کی جانب سے کیے گئے مظالم، خصوصاً الفاشر اور اس سے قبل الجنینہ میں ہونے والے واقعات، نیز اب کُردفان میں جاری تشدد کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے زور دیا کہ شہریوں،امن محافظوں،اقوامِ متحدہ کے عملے اور امدادی کارکنوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے اور یہ اقدامات جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
سفیر جدون نے بڑے آبادی مراکز کے محاصرے،شہریوں اور شہری تنصیبات کو دانستہ نشانہ بنانے، جدید ہتھیاروں کے بڑھتے ہوئے استعمال اور سرحد پار اثرات بالخصوص سوڈان اور جنوبی سوڈان کی سرحد کے اطراف پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ سوڈان کے عام شہری سب سے زیادہ بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے منشور پر مبنی پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے سوڈان کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔











