مسابقتی مارکیٹ آپریشنز کے تحت پہلی 200 میگاواٹ  بجلی کی ٹرانزیکشن رواں سال جون تک مکمل ہونے کی توقع ہے، سردار اویس احمد لغاری

10

اسلام آباد۔24فروری  (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا  ہےکہ نئے متعارف کرائے گئے مسابقتی مارکیٹ آپریشنز کے تحت پہلی 200 میگاواٹ  بجلی کی ٹرانزیکشن رواں سال جون تک مکمل ہونے کی توقع ہےجو پاکستان کے مسابقتی بجلی مارکیٹ کی جانب منتقلی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔

منگل کومسابقتی مارکیٹ آپریشنز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اصلاحات کے اس سفر تصوردہائیوں قبل پیش کیا گیا اور جس کا عملی آغاز 2016-17 میں ہوا اور بالآخر برسوں کی مشاورت اور ادارہ جاتی تیاری کے بعد نفاذ کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔مسابقتی مارکیٹ اصلاحات کی ابتدائی منظوری1990 کی دہائی کے اوائل میں ملنے کے باوجود عملدرآمد پر تاخیر کو اسے گورننس میں تاخیر قرار دیا جس سے ملک کا قیمتی وقت ضائع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ کسی تصور کی منظوری 1992 میں دیتے ہیں لیکن اس پر سنجیدہ عملدرآمد تقریباً دو دہائیاں بعد شروع کرتے ہیں تو یہ ہمارے گورننس فریم ورک میں موجود چیلنجز کی عکاسی کرتا ہے۔

وفاقی وزیر نے اس امر پر زور دیا کہ یہ اصلاحات ایک مشترکہ ادارہ جاتی کاوش کا نتیجہ ہیں اور انہوں نے سیکریٹری پاور ڈویژن ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان، چیئرپرسن بورڈ آف ڈائریکٹرز آئی ایس ایم او ارمینہ اسد ملک، چیئرمین این جی سی ڈاکٹر فیاض، سی ای او آئی ایس ایم او امتیاز شاہ اور دیگر شراکت داروں کے تعاون اور عملدرآمد میں معاونت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ اس پوری ٹیم نے گزشتہ چند برسوں میں غیر معمولی کام کیا ہے اور پاور ڈویژن، ریگولیٹرز اور مارکیٹ اداروں کی خدمات کو بھی سراہا ۔ انہوں نے کہا یہ محض رسمی کارروائی نہیں ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نہ صرف سیاسی قیادت بلکہ انتظامی امور سنبھالنے والے افسران بھی انتہائی اہمیت رکھتے ہیں، پالیسی سازوں کے طور پر ہمیں جو فکری رہنمائی ملتی ہے اور جس انداز میں ہم مشترکہ طور پر عملدرآمد کی جانب بڑھتے ہیں، وہ عوام کی بہتری کے لیے نہایت اہم ہے۔

اویس لغاری نے وزیر اعظم اور وزیر اعظم آفس کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی سرپرستی اور اعتماد کے بغیر اصلاحاتی عمل نفاذ کے مرحلے تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ جاری چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ بعض طریقہ کار اور ریگولیٹری امور جن میں وہیلنگ چارجز کا تعین بھی شامل ہے تاحال زیر عمل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے ایک سمری وزیر اعظم کی منظوری کے لیےبھجوائی جا چکی ہے اور امید ظاہر کی کہ اپریل کے بعد نیلامی سے متعلق ٹرانزیکشنز بآسانی آگے بڑھ سکیں گی۔انہوں نے کہا کہ  توقع رکھتے ہیں کہ رواں سال جون تک پہلی 200 میگاواٹ ٹرانزیکشن مکمل ہو جائے گی۔اویس لغاری نے امید ظاہر کی کہ بجلی مارکیٹ کی جانب منتقلی ماضی کی اصلاحات کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز رفتار ہوگی۔

تقریب کے اختتام پروفاقی  وزیر نے اصلاحاتی عمل میں نمایاں کردار ادا کرنے والے سینئر افسران میں تعریفی اسناد تقسیم کیں۔ اسناد حاصل کرنے والوں میں سی ای او آئی ایس ایم او امتیاز شاہ، ارشد جاوید منہاس (ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئی ٹی/ایچ آر اینڈ ایڈمن)، محمد زکریا ایگزیکٹو ڈائریکٹر سسٹم آپریشنز، نعمان رفیق کمپنی سیکرٹری، عمر ہارون ملک ایگزیکٹو ڈائریکٹر مارکیٹ آپریشنز، سید شاہیر علی ایڈیشنل سینئر ڈائریکٹر) اور ذیشان خان ڈائریکٹر کارپوریٹ کمیونیکیشنز سمیت دیگر افسران شامل تھے جنہوں نے اس سنگِ میل کے حصول میں اہم کردار ادا کیا۔قبل ازیں وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری اور سیکرٹری پاور ڈویژن ڈاکٹر محمد فخرعالم عرفان نے مسابقتی مارکیٹ آپریشنز کا باقاعدہ افتتاح کیا۔