اسلام آباد، 25فروری(اے پی پی):وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت کی توانائی شعبے میں اصلاحات کے باعث ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے اور پاکستان پٹرولیم و گیس کے شعبے میں استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے۔
بدھ کو پاکستان گورننس فورم 2026 کے موقع پر ‘‘اے پی پی’’ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے کو درپیش بنیادی مسائل سابقہ حکومت سے ورثے میں ملے تاہم موجودہ حکومت نے مشکل اور جرأتمندانہ فیصلے کر کے صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ترک پٹرولیم اور آذربائیجان کی سرکاری آئل کمپنی سوکار پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی لے رہی ہیں، جو مارکیٹ کے اعتماد کا مظہر ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیاں اور مالیاتی ادارے پاکستان کے اقدامات کو مثبت انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت گیس شعبے میں کراس سبسڈی کا بوجھ کم کیا گیا ہے جبکہ سرکلر ڈیٹ کے اصل حجم میں بھی کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق جون میں گیس سیکٹر کا سرکلر ڈیٹ 1830 ارب روپے تھا جو کم ہو کر تقریباً 1815 تا 1816 ارب روپے تک آ چکا ہے اور آئندہ رپورٹ میں مزید بہتری کی توقع ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سرکلر ڈیٹ میں حالیہ اضافہ بنیادی قرضے میں نہیں بلکہ سود کی ادائیگیوں کے باعث ہوا ہے کیونکہ ماضی کے جمع شدہ واجبات کی مکمل ادائیگی تک سود میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ حکومت نے سیاسی سرمایہ داؤ پر لگا کر اصلاحات کیں، جن کے ثمرات اب سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ عوام کو حقائق سے آگاہ کریں تاکہ اصلاحاتی اقدامات کی درست تصویر سامنے آ سکے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور تمام اسٹیک ہولڈرز مستقل مزاجی کے ساتھ اسی راستے پر گامزن رہے تو پاکستان توانائی کے شعبے میں وہ مقام دوبارہ حاصل کر سکتا ہے جس کا وہ عالمی سطح پر حق دار ہے۔











