اسلام آباد، 25فروری(اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے کہا ہے کہ برآمدات کا ایجنڈا دراصل ایک مشترکہ قومی ذمہ داری ہے جس کے لیے حکومتی اداروں، صنعت اور تربیتی نظام کے درمیان ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی، مہارتیں اور کاروباری صلاحیت ملک کے برآمدی نظام کا اہم ستون ہیں اور انہیں عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
آج پاکستان بزنس فورم 2026 سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو صرف افرادی قوت فراہم کرنے والے ملک کے بجائے ایک قابلِ اعتماد عالمی ٹیلنٹ پارٹنر کے طور پر خود کو منوانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مہارتوں کی بہتر منصوبہ بندی، تربیتی نظام میں بہتری اور ڈیجیٹل سہولتوں کے فروغ کے ذریعے پیشہ ور افراد کے لیے معیاری اور باوقار مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ٹی، صحت، انجینئرنگ، تعمیرات اور دیگر جدید شعبوں میں پاکستانی افرادی قوت عالمی سطح پر نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔
چوہدری سالک حسین نے کہا کہ مربوط حکمتِ عملی، ادارہ جاتی اصلاحات اور نجی شعبے کی شراکت سے نہ صرف برآمدات میں تنوع آئے گا بلکہ معیشت کو بھی نئی سمت ملے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مشترکہ کاوشوں کے ذریعے پاکستان کو ایک بااعتماد، مسابقتی اور ذمہ دار معاشی شراکت دار کے طور پر عالمی منظرنامے پر مزید مضبوط مقام دلایا جا سکتا ہے۔











