پاکستان کا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں وسطی افریقی جمہوریہ میں امن مشن کو مالی بحران سے لاحق خطرات پر اظہارِ تشویش

10

 

اقوامِ متحدہ، 26 فروری (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں وسطی افریقی جمہوریہ سے متعلق بریفنگ کے دوران پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے مشکل سیاسی، سیکیورٹی اور مالی حالات میں امن مشن  کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں کمی اور فوجی دستوں کی واپسی کے سبب شہریوں کے تحفظ میں کمزوری اور امن دستوں کو لاحق خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ پاکستان کو اس مشن میں 1,200 سے زائد یونیفارم پوش اہلکاروں کی خدمات فراہم کرنے پر فخر ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے شدید مالیاتی بحران کے باعث وسطی افریقی جمہوریہ  میں امن و استحکام کے لیے برسوں کی محنت سے حاصل کی گئی کامیابیاں خطرے میں پڑ رہی ہیں۔ سفیر عثمان جدون نے 28 دسمبر 2025 کو ہونے والے مشترکہ انتخابات کے کامیاب انعقاد پر وسطی افریقی جمہوریہ کو مبارکباد دی اور اسے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا جو کی لاجسٹک، تکنیکی اور سیکیورٹی معاونت کے بغیر ممکن نہ تھا۔ انہوں نے 2019 کے سیاسی معاہدے پر عمل درآمد اور مسلح گروہوں کی تحلیل میں پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔

انہوں نے کہا کہ مشرقی اور جنوب مشرقی علاقوں میں بدستور عدم استحکام اور سوڈان سے در آنے والے اثرات ان کامیابیوں کی نزاکت کو ظاہر کرتے ہیں۔ سفیر جدون نے پائیدار استحکام کے لیے قومی دفاعی فورسز کی مضبوطی اور ریاستی اختیار کی توسیع کو ناگزیر قرار دیا۔پاکستان کے نائب مستقل مندوب نے مشن کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا کہ 2 فروری تک غیر ادا شدہ واجب الادا رقوم 733 ملین ڈالر تک پہنچ چکی تھیں، جبکہ منظور شدہ بجٹ کا صرف 58 فیصد موصول ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ ہنگامی کٹوتیوں کے نتیجے میں 16 اکتوبر سے یکم فروری کے درمیان 2,937 اہلکار واپس بلائے گئے جو کہ ایک نہایت اہم عرصہ تھا۔ سفیر جدون نے زور دیا کہ یہ کٹوتیاں محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ان سے انتخابی سیکیورٹی اور شہریوں کے تحفظ کی صلاحیت براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔