اسلام آباد ،4 مارچ )اے پی پی):پارلیمانی امور کے وزیرڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں ملک کی مستقبل کی پالیسیوں کی تشکیل میں حکومت تمام سیاسی جماعتوں بالخصوص اپوزیشن کی تجاویز کو اہمیت دیتی ہے۔انہوں نے یہ بات قومی اسمبلی میں ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کے جواب میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن کو افغانستان، ایران، خلیجی ممالک اور مجموعی علاقائی صورتحال کے حوالے سے اہم بریفنگ میں مدعو کیا تھا۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی بریفنگ میں اپوزیشن نے شرکت نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے ارکان پارلیمنٹ اور ملکی سیاسی قیادت کو تفصیلی بریفنگ دی۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی اور اتحادی جماعتوں کے دیگر رہنماؤں نے اپنی قیمتی تجاویز پیش کیں ۔اس سے قبل ایوان نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال بالخصوص ایران پر حملوں پربحث پھرشروع کی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے ایران پر حملے اور ایرانی سپریم کمانڈر علی خامنہ ای کی شہادت کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں کمی کی بات کرتا ہے اور تمام ممالک پر زور دیتا ہے کہ وہ خطے میں امن کی بحالی کے لیے کشیدگی کو کم کریں۔
آپریشن غضب للحق کے حوالے سے وزیر نے کہا کہ یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک افغان طالبان حکومت پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے والے عناصر کے خلاف ٹھوس اقدامات کو یقینی نہیں بناتی۔ قبل ازیں ایوان نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال بالخصوص ایران پر حملوں پر دوبارہ بحث شروع کی۔
مرزا اختیار بیگ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اگریہ جنگ جاری رہی تو یقینا عالمی معیشت کوشدید معاشی اور مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔اسامہ حمزہ نے ایرانی عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ایران میں بمباری میں معصوم بچوں کے قتل عام کی مذمت کی۔علی محمد خان نے ایران پر حملے کو اُمت مسلمہ پر حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جنگ کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔
اس موقع پر اظہارخیال کرنے والوں میں شیخ آفتاب احمد، شاہدہ رحمانی، ڈاکٹر فاروق ستار، اقبال آفریدی، ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم سومرو، شبیر علی قریشی اور نعیمہ کشور شامل ہیں۔ایوان کا اجلاس کل تک کے لیئے ملتوی ہوا۔











