اسلام آباد۔5مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ سے چینی کمپنی ایرو سپیس ڈویلپمنٹ انڈسٹری انویسٹمنٹ گروپ کے اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت کمپنی کے پارٹی سیکریٹری اور چیئرمین بورڈ لو جنہائی کر رہے تھے۔
وفاقی وزیر نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع سے آگاہ کیا اور ملک میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کرنے پر چینی کمپنی کا شکریہ ادا کیا۔پاکستان اپنی حکمت عملی کے لحاظ سے اہم جغرافیائی محل وقوع، 240 ملین سے زائد آبادی اور نوجوان متحرک افرادی قوت کی بدولت سرمایہ کاری کے لیے نمایاں مواقع فراہم کرتا ہے۔ ملک سرمایہ کاروں کے لیے خصوصی مراعات اور سہولیات بھی فراہم کرتا ہے۔چینی وفد نے ملاقات پر وفاقی وزیر کا شکریہ ادا کیا اور اپنی کمپنی کے عالمی پروفائل اور آپریشنز کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ ایرو سپیس ڈویلپمنٹ انڈسٹری انویسٹمنٹ گروپ ایک بین الاقوامی سرمایہ کاری گروپ ہے جس کی AAA کارپوریٹ کریڈٹ ریٹنگ ہے اور یہ جدید ٹیکنالوجی، ایرو سپیس ڈویلپمنٹ، مصنوعی ذہانت، الیکٹرک گاڑیاں، ڈرون ٹیکنالوجی اور توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
وفد نے پاکستان میں 5 تا 10 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی جس میں معدنیات، جدید ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی کے شعبے شامل ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں ہنر مندی کی ترقی کے پروگراموں پر کام کرنے اور ملک کی اقتصادی اور تکنیکی ترقی میں طویل المدتی شراکت کے اپنے وژن پر بھی زور دیا۔وفد نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر بیلٹ اینڈ روڈ (او بی او آر) منصوبے کے مقاصد کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور خطے میں اقتصادی روابط کو مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے چینی کمپنی کی جانب سے سرمایہ کاری میں دلچسپی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کی دیرینہ دوستی کو انتہائی اہمیت دی جاتی ہے اور اسے اکثر ’’پہاڑوں سے بلند اور سمندروں سے گہری‘‘قرار دیا جاتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو فروغ دینے کا خواہاں ہے اور اس میں اپنے قابل اعتماد دوست چین کی بھرپور شرکت کی توقع رکھتا ہے۔
اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ انہوں نے پہلی مرتبہ 1972ء میں چین کا دورہ کیا اور اس کے بعد اب تک پچاس سے زائد مرتبہ چین کا سفر کر چکے ہیں جہاں انہوں نے چین کی غیر معمولی اقتصادی ترقی اور پیش رفت کو قریب سے دیکھا۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے تحت حکومت پاکستان سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ فعال طور پر ریگولیٹری اصلاحات کر رہا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کی جا سکے اور کاروباری عمل کو آسان بنایا جا سکے۔
وفاقی وزیر نے ستمبر میں منعقد ہونے والی پاکستان-چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کا بھی ذکر کیا جس میں پاکستان اور چین کی 300 سے زائد کمپنیاں شریک ہوئیں اور 167 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) دستخط کی گئیں جو دوطرفہ سرمایہ کاری اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے اہم ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ موجود ہے اور پاکستان اب اپنی ویلیو ایڈڈ برآمدات میں اضافہ کر کے اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔وفاقی وزیر نے چینی وفد کو پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیز) میں سرمایہ کاری کے لیے فراہم کی جانے والی مراعات سے بھی آگاہ کیا جن میں انکم ٹیکس سے استثنیٰ، مشینری کی درآمد پر سیلز ٹیکس میں چھوٹ اور صنعتی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے دیگر سہولیات شامل ہیں۔
فریقین نے پاکستان اور چین کے درمیان سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔بورڈ آف انویسٹمنٹ نے وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کی قیادت میں سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے اور پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مکمل تعاون جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔











