اسلام آباد، 10 مارچ (اے پی پی): وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا کہ نرسنگ کا شعبہ صحت کے نظام میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور مریضوں کی معیاری نگہداشت کا انحصار نرسنگ اسٹاف کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر ہوتا ہے۔
پاکستان نرسنگ کونسل کا دوسرا اجلاس وزارت قومی صحت میں منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے نرسنگ کونسل کے اراکین سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت تقریباً نو لاکھ نرسز کی کمی ہے جبکہ عالمی سطح پر تقریباً پچیس لاکھ نرسز کی طلب موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ مطلوبہ اہداف کے حصول کے لیے پاکستان نرسنگ کونسل کو مضبوط اور مؤثر بنانا ناگزیر ہے اور نرسنگ کونسل کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید خطوط پر استوار کرنے کا پختہ عزم کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نرسنگ کونسل کی متاثرہ ساکھ کی بحالی کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں اور ادارے میں میرٹ اور شفافیت کے فروغ کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
مصطفی کمال نے کہا کہ آپ سب پیشہ ور افراد ہیں اور ادارے کی متاثرہ ساکھ کو بحال کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نرسنگ کے شعبے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور ایسے نرسنگ کالجز کو فروغ دیا جائے جو اعلیٰ معیار کی نرسز تیار کریں جو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کریں۔
وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا کہ پاکستان کا صحت کا نظام مضبوط بنیادوں پر استوار ہونا چاہیے اور نرسنگ کے شعبے کو بدنام کرنے والی کالی بھیڑوں کا قلع قمع کیا جائے تاکہ ادارے کی ساکھ کو بحال کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نرسنگ کے شعبے کو فروغ دے کر ایسی نرسز تیار کی جائیں جو نہ صرف ملک کی ضروریات پوری کریں بلکہ عالمی سطح پر موجود طلب کو بھی پورا کریں اور پاکستان کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کرنے کا ذریعہ بنیں۔
اجلاس میں اسپیشل سیکرٹری ہیلتھ اسلم غوری کو پاکستان نرسنگ کونسل کا صدر جبکہ ڈاکٹر سید علی فرحان راضی کو نائب صدر منتخب کیا گیا۔











