چین کی پندرہویں پانچ سالہ منصوبہ بندی پر عالمی اہمیت اور مواقع کے موضوع پر سیمینار

14

اسلام آباد، 10 مارچ (اے پی پی): انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد کے چین پاکستان اسٹڈی سنٹر نے چائنا میڈیا گروپ کے اشتراک سے ’’چین اِن اسپرنگ ٹائم: دی 15thفائیو ایئر پلان، دی گلوبل سگنیفیکنس اینڈ اپرچونیٹیز آف چائنیز ماڈرنائزیشن‘‘ کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا۔ تقریب میں چین کے حالیہ  پالیسی ترجیحات اور عالمی اثرات پر گفتگو کی گئی۔

چیئرمین آئی ایس ایس آئی سفیر خالد محمود نے اپنے استقبالیہ کلمات میں کہا کہ چین کی جدت، پائیدار ترقی اور عوامی فلاح کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی، گرین ڈویلپمنٹ اور رابطہ کاری کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔

مہمانِ خصوصی مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ چین کی قومی عوامی کانگریس اور چائنیز پیپلز پولیٹیکل کنسلٹیٹو کانفرنس کے اجلاس چین کی طویل المدتی اقتصادی حکمت عملی اور پالیسی ترجیحات کو سمجھنے کا اہم ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین معاشی استحکام، ٹیکنالوجی میں خود انحصاری، جدت اور گرین ٹرانسفارمیشن پر توجہ دے رہا ہے جبکہ عالمی نظام بتدریج کثیر قطبی شکل اختیار کر رہا ہے جس میں گلوبل ساؤتھ کے ممالک کا کردار بڑھ رہا ہے۔

سفیر مسعود خالد نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ چین کے پانچ سالہ منصوبے اس کی ترقی کے بنیادی ستون رہے ہیں اور انہی منصوبوں کے ذریعے چین نے آٹھ سو ملین سے زائد افراد کو غربت سے نکالا اور جدید انفراسٹرکچر قائم کیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، تحقیق اور جدت میں مسلسل سرمایہ کاری نے چین کو ایک بڑی معاشی اور تکنیکی طاقت بنا دیا ہے۔

ڈاکٹر حسن داؤد بٹ نے کہا کہ چین کی ترقی کو ’’گریٹ وال آف ڈیولپمنٹ‘‘ سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پندرہواں پانچ سالہ منصوبہ جدت، گرین ڈویلپمنٹ اور معیاری معاشی ترقی پر مرکوز ہے جبکہ پاکستان خصوصی اقتصادی زونز، ٹیکنالوجی تعاون، قابلِ تجدید توانائی اور عوامی روابط کے فروغ کے ذریعے اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

ڈاکٹر طاہر ممتاز اعوان نے کہا کہ یہ منصوبہ 2035 تک سوشلسٹ ماڈرنائزیشن کے ہدف کے حصول کی جانب ایک اہم قدم ہے جس میں تیز رفتار ترقی کے بجائے معیاری ترقی پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک فیز 2.0 کے ذریعے ٹیکنالوجی ٹرانسفر، قابلِ تجدید توانائی، زراعت اور صنعتی ترقی میں تعاون کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

چینی سفارت خانے کے پولیٹیکل اینڈ پریس کاؤنسلر وانگ شینگ جئے نے کہا کہ پندرہواں پانچ سالہ منصوبہ ایک جامع اور مشاورتی عمل کا نتیجہ ہے جس میں معاشرے کے مختلف طبقات کی آرا شامل کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو سمیت مختلف اقدامات شراکت دار ممالک کے لیے ترقی کے مواقع پیدا کر رہے ہیں اور چین پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

اس سے قبل سی پی ایس سی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر طلعت شبیر نے چین کے ’’ٹو سیشنز‘‘ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان فیصلوں سے چین کی اقتصادی اور حکمرانی کی پالیسیوں کی سمت متعین ہوتی ہے اور پاکستان کے لیے سی پیک کے ذریعے معاشی تعاون کے مزید مواقع پیدا ہوتے ہیں۔سیمینار میں سفارت کاروں، ماہرین، پالیسی سازوں اور میڈیا نمائندگان نے شرکت کی۔