اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کا موقف: فوری جنگ بندی اور سفارت کاری کی بحالی پر زور

15

اقوام متحدہ، 12 مارچ (اے پی پی): پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بحرین اور روسی فیڈریشن کی جانب سے پیش کردہ مسودہ قراردادوں پر رائے کی وضاحت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی میز پر واپسی پر زور دیا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ جاری تنازع کے اثرات اب صرف چند ممالک تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کے علاقائی اور عالمی اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایسا تنازع ہے جسے جنم ہی نہیں لینا چاہیے تھا اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی امن کے لیے سنگین خطرہ بن جاتی ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ خطے کو درپیش سنگین خطرات کے باوجود سلامتی کونسل تنازع کے خاتمے کے لیے ایک جامع ردعمل پر متفق نہ ہو سکی۔

پاکستانی مندوب نے بحرین اور روس کی جانب سے پیش کی گئی دونوں مسودہ قراردادوں کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بحرین کی قرارداد کے حق میں پاکستان کا ووٹ خلیجی برادر ممالک **بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہے۔ انہوں نے شہری آبادی، شہری تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ان ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ان ممالک کی سرزمین پر حملوں کا فوری خاتمہ ہونا چاہیے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے حقوق اور آزادی کو متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے روس کی مسودہ قرارداد کو بھی مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد فریقین کو فوری طور پر فوجی سرگرمیاں بند کرنے، کشیدگی سے گریز کرنے اور مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی ترغیب دینا ہے جو پاکستان کے مؤقف کے مطابق ہے۔

پاکستانی مندوب نے 28 فروری کو اسلامی جمہوریہ ایران پر ہونے والے بلاجواز حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعات نے بین الاقوامی امن و سلامتی کو سنگین خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے ایک ہمسایہ اور برادر ملک کی حیثیت سے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے گہرے سماجی، معاشی اور انسانی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات پر حملوں میں دو پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے جبکہ خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں پاکستانی بھی خطرات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بحران کے باعث پاکستان کی ایندھن کی فراہمی متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں حکومت کو تیل، گیس اور بجلی کے استعمال میں بچت کے لیے غیر معمولی اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں جبکہ فضائی رابطے بھی متاثر ہوئے ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ جاری تنازع کے باعث اسکولوں، رہائشی علاقوں، تیل اور بندرگاہی تنصیبات، پانی صاف کرنے کے کارخانوں اور دیگر شہری بنیادی ڈھانچے پر میزائل اور ڈرون حملوں سے شدید انسانی المیہ پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے شہری ہلاکتوں پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

انہوں نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کے منشور سے باہر طاقت کا کوئی بھی استعمال غیر قانونی اور قابل مذمت ہے اور تمام فریقوں کو دوران جنگ بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری کرنی چاہیے۔

اپنے اختتامی کلمات میں پاکستانی مندوب نے مطالبہ کیا کہ تمام فریق فوری طور پر کشیدگی میں کمی لائیں، مزید حملوں سے گریز کریں اور بحران کے دیرپا حل کے لیے فوری طور پر سفارت کاری اور مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔