سندھ طاس معاہدہ: یکطرفہ تبدیلی یا معطلی پاکستانی معیشت، زراعت و کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پر براہِ راست حملہ تصور،ڈاکٹر مصدق ملک

13

اسلام آباد، 20 مارچ (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے بھارت کی جانب سے پانی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے اقدامات کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی یا معطلی پاکستان کی معیشت، زراعت اور کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پر براہِ راست حملہ تصور کی جائے گی۔

اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں عالمی یومِ آب کی مناسبت سے “پانی اور صنفی مساوات” کے موضوع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی تقریب سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی معیشت کا 30 فیصد حصہ اور نصف افرادی قوت کا روزگار پانی سے وابستہ ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ ہمسایہ ملک کی جانب سے پانی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا رجحان نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ یہ دہائیوں سے قائم تعاون کے فریم ورک کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے زور دیا کہ پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ ہماری تہذیب، انسانیت اور بقا کا مسئلہ ہے، اور اس کا مؤثر انتظام قومی خوشحالی کا بنیادی تقاضا ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں بدترین سیلابوں کا سامنا کیا ہے جس میں 6 ہزار سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، 4 کروڑ افراد بے گھر ہوئے اور 1.8 ارب تعلیمی دنوں کا ضیاع ہوا۔ انہوں نے خصوصی طور پر ذکر کیا کہ پانی کی کمی یا قدرتی آفات سے خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں کیونکہ زراعت میں 61 فیصد افرادی قوت خواتین پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے حکومتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی نئی موسمیاتی پالیسی (NDC III) میں خواتین کی شمولیت کو یقینی بنایا گیا ہے اور “گرین ریولوشن” کے تحت شروع کیے جانے والے منصوبوں میں 50 فیصد کوٹہ خواتین کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ انہوں نے “گرین ورچوئل یونیورسٹی” کے قیام کا بھی اعلان کیا جو زراعت، پانی اور موسمیاتی امور پر تحقیق کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوگی۔