سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے مواصلات نے مری پوسٹ آفس کو ٹی ہاؤس میں تبدیل کرنے کا عمل روکنے کی ہدایت کر دی

13

اسلام آباد، 26 مارچ (اے پی پی): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا اجلاس آج سینیٹر پرویز رشید کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں پاکستان پوسٹ کی کارکردگی، مالی خسارے اور اثاثوں کے تحفظ پر غور کیا گیا۔

 کمیٹی نے ادارے کی مسلسل تنزلی اور بھاری مالی خسارے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر جامع اصلاحات یا ادارے کے مستقبل پر ازسرنو غور کی ضرورت پر زور دیا۔کمیٹی نے تاریخی عمارتوں کی کمرشلائزیشن کا سخت نوٹس لیتے ہوئے مری کے تاریخی پوسٹ آفس کو کیفے میں تبدیل کرنے کی اطلاعات پر برہمی کا اظہار کیا۔ چیئرمین اور اراکین نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ پوسٹل سروس کی عمارتیں قومی ورثہ ہیں اور انہیں کسی ایسے تجارتی مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا جو ان کی تاریخی حیثیت کو متاثر کرے۔ کمیٹی نے متعلقہ حکام کو فوری طور پر مری پوسٹ آفس میں اس قسم کی سرگرمیاں روکنے کی ہدایت کی۔

بریفنگ کے دوران کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں 13 ہزار پوسٹ آفسز اور 21 ہزار ملازمین کے باوجود، پاکستان پوسٹ نجی اداروں کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہے۔ اجلاس میں نشاندہی کی گئی کہ جہاں ایک نجی کمپنی ٹی سی ایس صرف 3 ہزار ملازمین کے ساتھ اربوں روپے کا ریونیو حاصل کر رہی ہے، وہیں پاکستان پوسٹ کو سالانہ 19 ارب روپے خسارے کا سامنا ہے۔

کمیٹی نے ڈیجیٹلائزیشن اور ترقی کے فقدان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ 2 ہزار موٹر سائیکلیں ڈاکیوں میں تقسیم کیے جانے کے باوجود، ادارہ اپنی خدمات کو جدید خطوط پر استوار نہیں کر سکا۔چیئرمین نے ادارے کے مالی بحران اور قیمتی اثاثوں کے درمیان واضح تضاد کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پوسٹ ملک بھر کے پوش علاقوں میں قیمتی جائیدادوں کا مالک ہے، جن میں اسلام آباد کے سیکٹر ایف ایٹ میں ڈائریکٹر جنرل کی سرکاری رہائش گاہ بھی شامل ہے، تاہم ان اثاثوں سے مؤثر فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔

 کمیٹی نے تجویز دی کہ پیشہ ورانہ انداز میں ان جائیدادوں کا انتظام کیا جائے، تو صرف ان سے 15 فیصد منافع حاصل کر کے خسارہ کم کیا جا سکتا ہے۔کمیٹی نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ادارے کی آمدن کا 30 فیصد عام شہریوں سے حاصل ہوتا ہے، لیکن خدمات کا معیار جوں کا توں ہے۔

اراکین نے کہا کہ حکومت مستقل بنیادوں پر 19 ارب روپے کے سالانہ خسارے کو برداشت نہیں کر سکتی۔

چیئرمین نے پاکستان پوسٹ کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ ڈیجیٹلائزیشن اور ادارہ جاتی اصلاحات کے حوالے سے واضح منصوبہ پیش کیا جائے اور خبردار کیا کہ مسلسل نااہلی کے باعث ادارے کا وجود خطرے میں ہے۔