سکردو، 28 مارچ ( اے پی پی): وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام سے سکردو میں علماء کرام اور عمائدینِ علاقہ نے ملاقات کی ہے۔
وفاقی وزیر نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، ان کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی۔
وفاقی وزیر نے حالیہ ناخوشگوار واقعات میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کی عوام کی ماضی کی قربانیاں اور ان کا جذبۂ حب الوطنی قابلِ فخر ہے۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان پاکستان کے امن کا چہرہ ہے اور یہ خطہ ہمیشہ سے امن کا گہوارہ رہا ہے ۔ گلگت بلتستان سیاحت کا مرکز ہے جہاں ہر سال ہزاروں سیاح رخ کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی واضح ہدایت ہے کہ گلگت بلتستان میں پائیدار امن کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ترقیاتی عمل کو مزید تیز کیا جائے۔ وفاقی وزیر نے اکابر علماء کرام کی جانب سے قیامِ امن کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ امن کی بحالی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے جس کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت حالیہ ناخوشگوار واقعات کی شفاف اور انصاف پر مبنی تحقیقات کو یقینی بنائے گی اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام و عمائدین کو چاہیے کہ وہ گلگت بلتستان کے امن و امان کو نقصان پہنچانے والے عناصر کی نشان دہی کیلئے بھرپور تعاؤن کریں۔
اس موقع پر علماء کرام نے وزیرِ اعظم پاکستان کی ہدایت پر وفاقی وزیر کی بلتستان آمد کو سراہتے ہوئے امن و امان کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا اور اپنی سفارشات پیش کیں۔
علماء کرام نے واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی شفاف تحقیقات پر زور دیا اور وفاقی حکومت سے مؤثر کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں امن و امان علمائے کرام کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے حکومتی اداروں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔











